افغانستان میں اقوام
متحدہ کے معاون
مشن (یوناما) کی قائمقام سربراہ جارجیٹ گیگنن نے کہا ہے کہ طالبان حکام
خواتین کو تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت
کے مواقع سے محروم کر کے اس صلاحیت اور پیداواری قوت کو محدود کر رہے ہیں جو ملک
کی بحالی کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے افغانستان
کی صورتحال پر سلامتی
کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی مالی
امداد میں کمی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران افغان
خواتین کی قیادت میں کام کرنے والی تین چوتھائی تنظیموں کی مالی معاونت کم ہوئی ہے
جبکہ 80 فیصد سے زیادہ تنظیموں نے خواتین اور لڑکیوں کی ضروریات میں اضافے کی
اطلاع دی ہے۔
طالبان حکام کی جانب سے نافذ کیے جانے
والے قوانین نے نہ صرف لاکھوں لڑکیوں اور خواتین کو زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع
سے محروم کر دیا ہے بلکہ ان کے باعث انسانی بحران سے نمٹنے کی کوششیں بھی کمزور ہو
رہی ہیں۔ مشن کے لیے کام کرنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ افغانستان میں خاتون ہونا گویا جرم بن گیا
ہے۔ جب ایک قانون پر عمل کیا جاتا ہے تو اس کے بعد دوسرا قانون نافذ کر دیا جاتا
ہے۔ حجاب کرنے والی خواتین کو چہرہ ڈھانپنے کا حکم دیا جاتا ہے، جو نقاب کرتی ہیں
انہیں برقع پہننے کو کہا جاتا ہے، برقع پوش خواتین سے پوچھا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ محرم کیوں
نہیں اور جو محرم کے
ساتھ ہوں ان سے تعلق کی نوعیت دریافت کی جاتی ہے۔
جارجیٹ گیگنن نے کہا کہ مشن کو عملاً برسراقتدار حکام کے لیے کوئی
بڑا مسلح یا سیاسی خطرہ نظر نہیں آتا۔ ملک کے استحکام کو درپیش اہم خطرات میں
اضافے کی بڑی وجہ خود حکام کی پالیسیاں ہیں۔ اگرچہ ملک میں معاشی استحکام
کسی حد تک برقرار ہے، لیکن اسے معاشی بحالی
قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ملک میں فی کس آمدنی 5.6 فیصد کم ہوئی ہے جبکہ برآمدات میں
بھی گراوٹ آئی ہے۔ ملک میں غذائی عدم تحفظ اور خوراک کی قلت انتہائی
تشویش کا باعث ہے۔ یونیسف کے مطابق، تقریباً 37 لاکھ بچے غذائی کمی کا شکار ہیں جن
میں تقریباً 10 لاکھ شدید نوعیت کی غذائی قلت کا
سامنا کر رہے ہیں۔ رواں سال امدادی ضروریات کے لیے درکار وسائل میں سے صرف 30 فیصد
ہی فراہم ہو سکے ہیں۔ طالبان حکام کی جانب سے افیون کی کاشت پر
پابندی کا فیصلہ ایک مثبت قدم تھا جس کے نتیجے میں پوست کی کاشت میں نمایاں کمی
آئی۔ تاہم، معاشی دباؤ
کے باعث اس رجحان کے دوبارہ ابھرنے کا خطرہ موجود ہے۔
جارجیٹ گیگنن نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات بدستور شدید
تشویش کا باعث ہیں۔ انہوں نے ایک سال سے دونوں ممالک کے مابین جاری کشیدگی اور
سرحدیں بند ہونے کے نتیجے میں شہریوں، مقامی آبادیوں اور کاروباری سرگرمیوں پر
پڑنے والے اثرات کی نشاندہی کرتے ہوئے زور دیا کہ دوحہ عمل کے ذریعے بین الاقوامی
رابطہ اور تعاون انتہائی ضروری ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے میں طالبان حکام
کی جانب سے کثیرالفریقی رابطوں کے بجائے دوطرفہ عمل کو ترجیح دینا پیش رفت کی راہ
میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
افغان خواتین سے اظہار یکجہتی
اجلاس سے قبل اقوام
متحدہ میں فرانس کے
سفیر نکولا دی ریویئر نے کولمبیا، ڈنمارک، یونان، لٹویا،
لائبیریا، پاناما اور برطانیہ کے
سفیروں اور 36 دیگر رکن ممالک کے نمائندوں کے ساتھ صحافیوں کے سامنے ایک مشترکہ
بیان پڑھا جس میں افغان خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔
دی ریویئر نے کہا کہ طالبان کی
جانب سے مسلط کردہ صنفی امتیاز اور منظم و مسلسل جبر قابل مذمت ہے۔ خواتین اور
لڑکیوں کے حقوق پر عائد تمام پابندیاں، بلا تفریق اور فوری طور پر ختم کی جائیں
اور انسانی حقوق کی تمام پامالیاں روکی جائیں۔ انہوں نے رباب فاطمہ کو افغانستان کے لیے سیکرٹری جنرل کی خصوصی
نمائندہ اور ملک میں یوناما کی سربراہ مقرر کیے جانے کا خیرمقدم کیا اور طالبان حکام
پر زور دیا کہ وہ اقوام
متحدہ کے ساتھ
بامعنی تعاون کریں اور ادارے کے لیے کام کرنے والی افغان ملازمین پر عائد تمام
پابندیاں ہٹائی جائیں۔