امریکی ایوان نمائندگان میں ایک سینئر ڈیموکریٹ نے اسرائیل کو 2.8
بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت پر اعتراض ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر تشویش
کا اظہار کیا کہ آیا یہ ہتھیار امریکی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق استعمال
ہوں گے۔ نمائندہ گریگوری میکس Gregory Meeks نے کہا کہ وہ فروخت کی منظوری نہیں دیں گے
کیونکہ انہیں اب بھی غزہ اور لبنان کے گنجان آباد علاقوں میں ان ہتھیاروں کے ممکنہ
استعمال کے بارے میں خدشات ہیں۔
میکس کے اعتراض کے باوجود، ہتھیاروں کی فروخت روکنے کا امکان نہیں
ہے۔ جب یہ تجویز باضابطہ طور پر امریکی کانگریس کے سامنے آتی ہے تو وزیر خارجہ
مارکو روبیو قومی سلامتی کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کے جائزے کے معمول کے عمل کو
نظرانداز کر سکتے ہیں۔ یہ مجوزہ فروخت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ
انتظامیہ غزہ جنگ پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنہائی کے باوجود اسرائیل کی فوجی
صلاحیتوں کو مضبوط کر رہی ہے۔