پاکستان
کی حکومت نے پینشنرز کو بینکوں کے چکروں اور طویل قطاروں سے نجات دلانے کے لیے بائیومیٹرک
تصدیق اور لائف سرٹیفیکیٹ کا نظام تبدیل کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت وزارتِ خزانہ
نے سول و ملٹری پینشنرز کے لیے نیا ڈیجیٹل فریم ورک متعارف کراتے ہوئے بینکوں سے
بائیومیٹرک تصدیق کا اختیار ختم کر کے تمام تر عمل نادرا کے سپرد کر دیا ہے۔
علاوہ
ازیں نادرا سینٹرز کے ساتھ ملک بھر میں 5 ہزار سے زائد ’ای سہولت‘ مراکز بھی فعال
کر دیے گئے ہیں، جبکہ بیمار اور معذور پینشنرز کی تصدیق کے لیے نادرا کی موبائل وینز
اور بائیکر سروس کے ذریعے گھر جا کر یہ خدمات فراہم کی جائیں گی۔ تاہم یہاں بنیادی
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت کو پینشنرز کے لیے ان نئے اقدامات کی ضرورت کیوں
محسوس ہوئی؟ حکومت کی جانب سے پینشن کے نظام میں اس بڑی اور بنیادی تبدیلی کی سب
سے بڑی وجہ بزرگ اور معمر شہریوں کو درپیش شدید انتظامی و جسمانی تکالیف کا خاتمہ
ہے۔ ماہرین کے مطابق ’سابقہ نظام میں 70 یا 80 سال سے زائد عمر کے بیمار اور معذور
پینشنرز کو سال میں دو مرتبہ سخت موسم کے باوجود بینکوں کے چکر لگانا پڑتے تھے۔‘ زیادہ
عمر ہونے کی وجہ سے اکثر پینشنرز کی انگلیوں کے نشانات (فنگر پرنٹس) مِٹ جاتے تھے،
جس کے باعث بینکوں کی ڈیوائسز پر بائیومیٹرک تصدیق ناکام ہو جاتی تھی۔ تصدیق میں
اس تاخیر یا ناکامی پر بینک فوراً پینشنرز کے اکاؤنٹس کو غیر فعال یا بلاک کر دیتے
تھے، جس کے نتیجے میں بزرگ شہریوں کی ماہانہ پینشن مہینوں اٹکی رہتی تھی اور وہ
اپنی ادویات و ضروریاتِ زندگی کے لیے مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے تھے۔
ماہرین
یہ بھی سمجھتے ہیں کہ پُرانے کاغذی نظام میں بے ضابطگیاں اور کرپشن بھی موجود تھی،
متعدد کیسز میں پینشنر کی وفات کے بعد بھی بینکوں یا دیگر عملے کی ملی بھگت سے جعلی
پینشنز وصول کی جاتی رہیں۔ اب نادرا کے ڈائریکٹ اور لائیو ڈیجیٹل ڈیٹا بیس سے اس
کاغذی کارروائی کا خاتمہ ممکن ہوا ہے، کیونکہ نادرا کے پاس وفات کے اندراج کا جامع
سسٹم موجود ہے جس سے جعلی وصولیوں کا مکمل خاتمہ ہوگا اور قومی خزانے کی بچت ہوگی۔
اگرچہ پینشنرز کو بینکوں سے نجات دلانے کے اس دعوے کو خوش آئند قرار دیا جا رہا
ہے، لیکن ماہرین نادرا کی عملی صلاحیت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ
لاکھوں سول اور ملٹری پینشنرز کا بوجھ سنبھالنے کے لیے پاک آئی ڈی ایپ اور نادرا
سسٹمز کا بلامعطل چلنا ضروری ہے، وگرنہ سگنل میں معمولی تاخیر بھی بزرگ شہریوں کی
پینشن کی معطلی کا باعث بن سکتی ہے۔