شمالی کوریا نے مصنوعی ذہانت یعنی
اے آئی سے لیس نئے طرز کے تیز رفتار تارپیڈو کا تجربہ کیا ہے، جو زیرِ آب
اہداف کی نشاندہی اور درست نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے
مطابق یہ تجربہ ملک کی عسکری ٹیکنالوجی میں بہتری اور ہتھیاروں کی صلاحیت بڑھانے
کی کوششوں کا حصہ ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے ہفتے کو بتایا کہ
’سپر اسپیڈ‘ زم 2.0 تارپیڈو نظام کا تجربہ جمعرات کو کیا گیا۔ اس کا مقصد ہتھیار میں کی
جانے والی تکنیکی بہتری کی تصدیق کرنا تھا، ایجنسی کے مطابق مصنوعی ذہانت کو اہداف
کی نشاندہی اور تارپیڈو کی رہنمائی کے نظام میں شامل کیا گیا ہے۔ گزشتہ 5 برس میں اس نظام
کے مختلف نوعیت کے 180 سے زائد تجربات کیے جا چکے ہیں۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی کوریا چند روز قبل آبدوز سے 2 اقسام
کے کروز میزائلوں کے تجربات کا اعلان بھی کر چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق روس کے ساتھ
بڑھتے ہوئے عسکری تعاون سے پیانگ یانگ کی میزائل اور ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی میں
پیشرفت کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تارپیڈو میں مصنوعی ذہانت کا
استعمال اسے حقیقی ہدف اور دھوکا دینے والے متبادل ہدف میں فرق کرنے میں مدد دے
سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ٹیکنالوجی ہتھیار کو راستہ تبدیل کرنے اور
ممکنہ خطرات سے بچنے کے لیے خودکار فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی دے سکتی ہے۔ جنوبی کوریا کی کیونگ نام
یونیورسٹی کے پروفیسر لِم اِل چُل کے مطابق، جنوبی کوریا اور امریکا تارپیڈو
کو اصل ہدف سے دور رکھنے کے لیے فریب دینے والے اہداف استعمال کرتے ہیں،
تاہم مصنوعی ذہانت اس حکمتِ عملی کے خلاف مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ شمالی کوریا نے رواں ماہ مصنوعی
ذہانت کی مدد سے درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے ہائپرسونک میزائل کا تجربہ کرنے
کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ اس کے جواب میں جنوبی کوریا نے اپنے ہائپرسونک گلائیڈ
ہتھیار کا تجربہ کیا، جسے اس نے اہم اسٹریٹجک اثاثہ قرار دیا۔ پیانگ یانگ نے جنوبی
کوریا کے تجربے کی کامیابی پر سوال اٹھایا، تاہم سیئول نے اس دعوے کو مسترد کر
دیا۔
دریں اثنا، امریکی صدر
ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے درمیان ممکنہ ملاقات کے حوالے
سے بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ تجزیہ کار یانگ مو جن کے مطابق شمالی کوریا اپنے ہتھیاروں
کی برتری ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ تارپیڈو سے
پیدا ہونے والے زیرِ آب شور کو کم کرنا اب بھی ایک اہم تکنیکی چیلنج ہے۔