معروف عالمی اشاعتی ادارے پینگوئن
رینڈم ہاؤس Penguin Random Houseنے فلسطین کی تاریخ اور فلسطینیوں کی جدوجہد پر مبنی بچوں کی ایک
کتاب کی اشاعت اس کی دکانوں میں دستیابی سے چند روز قبل روک دی۔ برطانوی اخبار دی گارڈین
کے مطابق، کتاب کے فلسطینی نژاد امریکی مصنفین اور ناشر کے درمیان فلسطینی تاریخ
اور 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملوں کی منظرکشی کے حوالے سے اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ پینگوئن رینڈم ہاؤس کے
ذیلی ادارے رینڈم ہاؤس چلڈرن بکس نے نومبر 2024 میں علانہ حدید Alana Hadidاور جنان مطاری Jenan Matari کے ساتھ کتاب کی اشاعت کا معاہدہ کیا تھا، ڈس پلیسمینٹ اینڈ دی
پیلیسٹینیئن امریکن اسٹوری کے عنوان سے یہ کتاب رواں سال ستمبر میں شائع ہونا تھی۔
علانہ حدید Alana Hadidسماجی
کارکن اور فلاحی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں، جبکہ جنان المطری Jenan Matari ایوارڈ یافتہ مصنفہ ہیں، علانہ حدید Alana Hadidمعروف
ماڈلز بیلا Bella اور
جیجی حدید Gigi Hadidکی
بہن بھی ہیں۔ 10 سے 13 سال کی عمر کے بچوں کے لیے لکھی گئی اس کتاب میں فلسطینی
تاریخ، اسرائیلی قبضے، مزاحمت اور دنیا بھر میں پھیلے فلسطینیوں کے تجربات کو
موضوع بنایا گیا ہے۔ کتاب میں مصنفین کے اپنے خاندانوں کی نقل مکانی اور بے
دخلی کی کہانیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
مصنفین نے کتاب کا مسودہ اور ناشر
کے ساتھ ای میلز کے اقتباسات دی گارڈین کو فراہم کیے، ان کے مطابق، کئی ماہ تک
جاری رہنے والے اختلافات کی بنیادی وجہ 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملوں کے بارے میں
استعمال ہونے والی زبان تھی۔ مصنفین کے مسودے میں کہا گیا تھا کہ نوآبادیاتی تسلط کے
تحت زندگی گزارنے والے لوگوں کو مزاحمت کا حق حاصل ہے، جبکہ ناشر چاہتا تھا کہ
مصنفین اس بات کو تسلیم کریں کہ 7 اکتوبر کے حملوں نے بین الاقوامی قانون کی خلاف
ورزی کی تھی۔
اخبار کے مطابق، ایک ایڈیٹر نے مسودے میں یہ جملہ شامل کیا
کہ ’یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھے’ اس کے بعد مصنفین نے ستمبر
کے اوائل میں کتاب کی اشاعت سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا۔
جنان المطری نے انسٹاگرام پر اپنے
ردعمل میں کہا کہ پینگوئن رینڈم ہاؤس جیسے بڑے اشاعتی ادارے کے ساتھ کام کرنا ان
کا خواب تھا، لیکن وہ اپنی برادری کے ساتھ وفاداری پر سمجھوتہ کرکے یہ خواب پورا
نہیں کرنا چاہتیں۔
ان کے مطابق، ذاتی
کامیابی کے لیے اپنے اصولوں کو قربان نہ کرنے کا فیصلہ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ
مظلوم لوگوں کے مزاحمت کے حق کو سمجھنا نوآبادیاتی نظام کے اثرات سے ذہنی آزادی
حاصل کرنے کے لیے اہم ہے، اور وہ اپنی برادری کے مفادات کو کسی کی سہولت یا ذاتی
کامیابی کے لیے قربان نہیں کریں گی۔
دوسری جانب رینڈم ہاؤس کے
ترجمان نے دی گارڈین کو بتایا کہ کتاب پر کام کا عمل ادارے کے معمول کے اشاعتی
طریقۂ کار کے مطابق ہوا۔ ترجمان نے کہا کہ ادارہ مصنفین کے اپنے فیصلے کا احترام
کرتا ہے اور نوجوان قارئین تک فلسطینی نقطۂ نظر پہنچانے کے عزم پر قائم ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں
سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل آئرش ناول نگار سیلی رونی کی کتابوں Sally Rooney’s booksکی برطانیہ میں فروخت بند ہونے کا معاملہ بھی سامنے آیا
تھا۔ رونی Sally Rooney نے فلسطین کی حمایت کرنے والی تنظیم فلسطین ایکشن کی مالی معاونت کے
لیے اپنی کتابوں سے حاصل ہونے والی رائلٹی استعمال کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔
برطانوی حکومت نے گزشتہ
سال اس تنظیم کو دہشتگرد تنظیم قرار دے کر پابندی عائد کی تھی، جس کے خلاف قانونی
چیلنج بھی کیا گیا ہے۔ سیلی رونی Sally Rooney ، جو نارمل
پیپل Normal People اور کنورسیشنز ود فرینڈز Conversations with Friends جیسے ناولوں کی مصنفہ ہیں، فلسطین ایکشن کی
حمایت کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے لندن ہائیکورٹ میں پابندی کے خلاف دائر قانونی
کارروائی میں جمع کرائے گئے بیان میں کہا تھا کہ ان کے فیصلے کے نتیجے میں ان کی
کتابوں کی برطانیہ میں فروخت بند ہو سکتی ہے۔