قابض
صہیونی ریاست کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو یمن میں حوثیوں کے خلاف جاری کشیدگی
کو اپنے تزویراتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا بنیادی ہدف سعودی عرب
کی مدد سے خطے میں ایک نیا سیکیورٹی اتحاد تشکیل دینا ہے، جسے ریاض نے تاحال مسترد
کر دیا ہے۔ نیتن یاہو امریکی ثالثی کے ذریعے سعودی عرب کو
حوثیوں کے خلاف مشترکہ عسکری کارروائی پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد
اسرائیل کی تنہائی کو ختم کرنا اور عرب دنیا کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے
لیے ایک نیا راستہ ہموار کرنا ہے۔
اسرائیلی عسکری قیادت نے
تاہم یمن میں براہ راست اسرائیلی مداخلت کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے
کہ ایسا کرنے سے نہ صرف ایران اور حوثیوں کے ساتھ کشیدگی بڑھے گی بلکہ یہ اقدام
اسرائیل کے اندرونی سیاسی استحکام اور انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کی اس حکمت عملی
کے پیچھے 3 بڑے زاویے کارفرما ہیں۔ اول، وہ حوثی تنازع کو جواز بنا کر سعودی عرب
کے ساتھ سیکیورٹی شراکت داری قائم کرنا چاہتے ہیں۔ دوم، وہ ایک بڑی علاقائی جنگ کے
ذریعے سیاسی ماحول بنا کر اپنے اقتدار کو طول دینا چاہتے ہیں۔ تیسرا اہم نکتہ بھارت-مشرقِ وسطیٰ-یورپ اقتصادی
راہداری (IMEC) کا منصوبہ ہے۔
نیتن یاہو اس عسکری تعاون
کے ذریعے ریاض سے تعلقات کی بحالی کی راہ ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ مذکورہ تجارتی
راہداری کو دوبارہ فعال کرنے کے خواہاں ہیں۔ یہ منصوبہ خطے کی جغرافیائی و اقتصادی
سیاست میں تبدیلی لا سکتا ہے۔ واضح
رہے کہ یمن کی جغرافیائی اہمیت بحیرہ احمر اور باب المندب کے دہانے پر واقع ہونے
کے باعث مسلمہ ہے۔ حوثی
تحریک اپنے عقائد اور نظریات کے تحت طویل عرصے سے سعودی عرب کی حدود میں اہم
تنصیبات کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ یہ جنگ اب محض مقامی تنازع نہیں رہی بلکہ علاقائی
طاقتوں کا مرکز بن چکی ہے۔ اسرائیل
اس صورتحال کو اپنے لیے ایک موقع سمجھتا ہے تاکہ وہ اپنے ان اہداف کو حاصل کر سکے
جنہیں وہ سفارت کاری کے ذریعے حاسل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ مبصرین کا کہناہے کہ سعودی عرب پر حوثیوں کا دباؤ بڑھنے کی صورت میں
نیتن یاہو اسے سیکیورٹی تعاون کی ضرورت کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں جاری رکھیں
گے۔