Politics
سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈا پور گرفتار
سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ اور پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لے لیا۔
- Reading time
- 2 منٹ کا مطالعہ
- اشاعت
- 17 اکتوبر، 2026، 9:23 AM

Politics
سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ اور پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لے لیا۔

سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ اور پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لے لیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈاپور کے خلاف تھانہ گولڑہ میں درج آڈیو لیک کیس کی سماعت ہوئی، سماعت کے دوران ان کے وکیل نے عدالت کو باضابطہ طور پر مطلع کیا کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں، جس کے باعث ان کی عدالت میں حاضری ممکن نہیں ہو سکی۔
بتایا گیا ہے کہ مقدمے کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حاکم خان بھکر نے کی، سماعت کے آغاز پر سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جانب سے راجہ ظہور ایڈووکیٹ نے عدالت کے سامنے پیش ہو کر نمائندگی کی، کیس میں نامزد شریک ملزم فاروق بھی عدالت کے روبرو حاضر ہوا، وکیل صفائی راجہ ظہور نے عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ علی امین گنڈاپور نے قانون کے احترام میں آج عدالت میں پیش ہونا تھا، تاہم پہلے سے گرفتاری کے باعث وہ عدالت میں حاضر ہونے سے قاصر ہیں۔
دورانِ سماعت وکیل راجہ ظہور نے مؤقف اختیار کیا چونکہ ملزم پہلے ہی قانون کی تحویل میں اور گرفتار ہے، اس لیے اگر عدالت آج دوبارہ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرتی ہے تو اس کا انتظامی و قانونی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہوگا، علی امین گنڈاپور کی عدم دستیابی اور سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر کیس میں گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ نہیں کیے جا سکے، جس پر عدالت نے گواہوں کی شہادت کا عمل اگلی تاریخ تک کے لیے ملتوی کردیا۔ اس حوالے سے مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ علی امین گنڈاپور کے خلاف آڈیو لیک کیس کی مزید سماعت 27 نومبر تک ملتوی کردی، علی امین گنڈاپور کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ گولڑہ میں آڈیو لیکس کے تناظر میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کی قانونی چارہ جوئی سیشن عدالت میں زیرِ التواء ہے۔