برطانیہ میں ایئر ٹریفک کنٹرول نظام میں
خرابی کے باعث لندن سمیت بڑے ایئرپورٹس پر فلائٹ آپریشن مکمل طور پر معمول پر نہ
آسکا، جبکہ ہزاروں مسافر متاثر ہوئے۔ ایوی
ایشن اینالیٹکس فرم کے مطابق گزشتہ روز 1,750 سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں، جبکہ
آج مزید 153 پروازیں منسوخ کی جاچکی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرول
نظام میں خرابی کے باعث کئی گھنٹوں تک برطانیہ کی فضائی حدود میں پروازوں کی
آمدورفت شدید متاثر رہی۔ ایئرپورٹس نے بعد ازاں پروازیں بحال کرنا شروع کردیں،
تاہم معمول کی صورتحال بحال ہونے میں مزید وقت لگنے کا امکان ہے۔
ایئر ٹریفک کنٹرول حکام سے وضاحت طلب
برطانوی ٹرانسپورٹ وزیر ہیڈی الیگزینڈر
نے ایئر ٹریفک کنٹرول فراہم کرنے والے ادارے نیٹس کے سربراہ مارٹن رولف کو طلب کرلیا
ہے تاکہ نظام میں خرابی کی وجوہات اور کارکردگی سے متعلق وضاحت حاصل کی جاسکے۔ ہیڈی الیگزینڈر نے کہا کہ وہ اس بات کی
یقین دہانی چاہتی ہیں کہ واقعے سے سبق سیکھا جائے اور ہوا بازی کے نظام کو سپورٹ
کرنے والا ٹیکنالوجی اور انفرااسٹرکچر قابل اعتماد رہے۔ نیٹس کے سربراہ مارٹن رولف
نے متاثرہ مسافروں سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ خرابی سائبر حملے کے باعث نہیں ہوئی۔
انہوں نے مسئلے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ مسافروں کی حفاظت اولین ترجیح
ہے۔
مسافروں کو ایئرلائن سے رابطے کی ہدایت
ہیتھرو ایئرپورٹ نے مسافروں کو ہدایت کی
ہے کہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے اپنی متعلقہ ایئرلائن سے پرواز کی تازہ صورتحال
معلوم کریں۔ گیٹ وک ایئرپورٹ نے بھی مسافروں کو یہی مشورہ دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق رائن ایئر کی منگل کو 200 سے
زائد پروازیں منسوخ ہوئیں، جس سے تقریباً 1 لاکھ 50 ہزار مسافر متاثر ہوئے، جبکہ
برٹش ایئرویز نے بھی تقریباً 100 پروازیں منسوخ یا متبادل ایئرپورٹس کی جانب منتقل
کیں۔ برطانیہ میں ایئر ٹریفک کنٹرول نظام کی خرابی کے باعث اس نوعیت کا بحران پہلے
بھی سامنے آچکا ہے، جس سے ایئرلائنز کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔