پیانگ یانگ: شمالی کوریا نے اپنی بحریہ
میں نیا ڈسٹرائر شامل کرلیا ہے، جس کے بارے میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ
جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے
کہا ہے کہ بحری بیڑے میں شامل کیا جانے والا نیا ڈسٹرائر جوہری حملوں کا جواب دینے
کے نظام کا حصہ ہوگا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے
جنگی جہاز کی کمشننگ کی تقریب ساحلی شہر وونسان میں منعقد ہوئی، آیا ڈسٹرائر خود
جوہری ہتھیاروں سے لیس ہوگا یا صرف جوہری صلاحیت رکھنے والے ہتھیاروں کو استعمال
کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔کم جونگ ان شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت رکھنے والی افواج
کو وسعت دینے کے خواہاں ہیں جبکہ ملک نے اپنی بحریہ کو جدید بنانے کی کوششیں بھی تیز
کردی ہیں۔
کم جونگ ان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے
کہا کہ جزیرہ نما کوریا کے مشرقی سمندر میں نئے جنگی جہاز کی تعیناتی سے شمالی کوریا
کے دشمنوں کو واضح پیغام دیا گیا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ شمالی کوریا سمندر کی سطح
اور زیرِ آب اپنی خودمختاری کا بھرپور استعمال کرے۔ رپورٹ کے مطابق ’کانگ کون‘ نامی یہ جنگی
جہاز اپنی کلاس کا دوسرا ڈسٹرائر ہے جسے شمالی کوریا کی بحریہ میں شامل کیا گیا
ہے۔
کم جونگ ان نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا
کہ شمالی کوریا کے بحری جوہری ہتھیاروں میں مسلسل جدت لائی جا رہی ہے اور ملک
سمندری خودمختاری اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنے طاقتور ترین اسٹریٹجک
اثاثوں کو وسعت دینے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔