ستمبر
میں امریکی شہر نیویارک عالمی سفارت کاری کا مرکز بن جاتا ہے جب دنیا بھر
سے سربراہان مملکت و حکومت اور اعلیٰ حکام اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں جنرل اسمبلی کے
سالانہ اعلیٰ سطحی عام مباحثے میں شرکت کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ امسال بڑھتی
جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور باہم پیوسط بحرانوں کے دوران عالمی رہنما اس اجلاس میں
ایک بھرپور ایجنڈے پر اظہار خیال کریں گے۔ اس میں
بین الاقوامی تنازعات اور سلامتی، موسمیاتی تبدیلی، آئندہ وباؤں سے نمٹنے کی
تیاری، سطح سمندر میں اضافہ، نسل پرستی کے خلاف جدوجہد اور پائیدار ترقی کے اہداف
جیسے موضوعات شامل ہیں۔ جنرل اسمبلی کے
81ویں اجلاس میں اعلیٰ سطحی ہفتے کی سرگرمیاں ایسے وقت ہو رہی ہیں جب دنیا میں
متعدد ممالک کے درمیان اختلافات گہرے ہو رہے ہیں اور کثیرالفریقی نظام پر دباؤ بڑھ
رہا ہے۔ رواں ماہ کے اوائل میں شروع ہونے والے اس
نئے اجلاس کی صدارت بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے خلیل الرحمان کر رہے ہیں۔ 'اعتماد کی بحالی، تبدیلی کے عمل کا انتظام: سب
کے مفادات کی تکمیل کرتا اقوام متحدہ' اس اجلاس
کا بنیادی موضوع ہے۔
سب
سے بڑا سفارتی اجتماع
جنرل اسمبلی میں
عام مباحثے کا آغاز 22 ستمبر سے ہو گا اور یہی اعلیٰ سطحی ہفتے کی سب سے اہم
سرگرمی تصور کی جاتی ہے۔ اس دوران کئی روز تک اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت اور اعلیٰ نمائندے
جنرل اسمبلی کے مشہور سبز سنگ
مرمر کے پوڈیم پر دنیا سے مخاطب ہوں گے۔ ان خطابات سے دنیا کو
مختلف ممالک کی ترجیحات اور خدشات کا اندازہ ہو گا۔ توقع ہے کہ اس موقع پر
تنازعات، معاشی مشکلات،
انسانی بحران، موسمیاتی تبدیلی، ترقی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی جیسے موضوعات تقاریر کے بنیادی
موضوع رہیں گے۔ سفارتی سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ بند کمرے کے اجلاسوں میں ہو گا
جہاں سیکڑوں دوطرفہ اور کثیرالفریقی ملاقاتوں کے ذریعے عالمی رہنماؤں کو اتحادیوں،
شراکت داروں حتیٰ کہ حریف ممالک کے رہنماؤں سے ایک ہی مقام پر ملاقات کا نادر موقع
ملے گا۔
2030
کی ڈیڈ لائن
عام
مباحثے کے آغاز سے قبل 18 ستمبر کو عالمی رہنما 'ایس ڈی جی مومنت' نامی سالانہ
اجلاس میں شرکت کریں گے جس میں پائیدار ترقی کے اہداف پر پیش رفت کا جائزہ لیا
جائے گا۔ ان
اہداف تک پہنچنے کے لیے مقرر کردہ2030 تک کی مدت پوری ہونے میں اب پانچ سال سے بھی
کم عرصہ باقی ہے۔ اسی لیے اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران ترقی سے متعلق اجلاسوں میں
مسائل کے ایسے عملی حل بھی پیش کیے جائیں گے جنہیں بڑے پیمانے پر اختیار کرکے دیگر
ممالک اور علاقوں میں بھی نافذ کیا جا سکے۔
گرم
ہوتی زمین اور موسمیاتی اقدامات
23
ستمبر کو اقوام
متحدہ کے
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش عالمی رہنماؤں کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کریں گے
جس میں موسمیاتی اقدامات اور ماحول دوست توانائی کی جانب منصفانہ منتقلی کے عمل پر
گفتگو ہو گی۔ اس موقع پر عالمی حدت میں مسلسل اضافے کے تناظر میں قابل تجدید
توانائی کی جانب منتقلی کو تیز کرنا، تیل جیسے
معدنی ایندھن سے دوری اختیار کرنا، ترقی پذیر ممالک کے لیے موسمیاتی مالی معاونت
میں اضافہ اور پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا شکار آبادیوں کی بہتر مدد
یقینی بنانا گفتگو کے خاص موضوعات ہوں گے۔ اس سے اگلے روز، 24 ستمبر کو عالمی
رہنما سطح سمندر میں اضافے کے مسئلے پر توجہ مرکوز کریں گے جو عالمی حدت کے سب سے
سنگین نتائج میں سے ایک ہے۔ چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک اور نشیبی ساحلی
علاقوں میں رہنے والی بہت سی آبادیوں کے لیے سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح گھروں،
بنیادی ڈھانچے اور میٹھے پانی کے
ذخائر کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ اس
اجلاس کا مقصد بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والے
ممالک کے لیے عالمی حمایت اور وسائل کو متحرک کرنا ہے۔
وباؤں
سے نمٹنے کی تیاری
25
ستمبر کو سربراہان مملکت و حکومت کووڈ-19 وبا سے حاصل ہونے والے
تجربات اور اس سے ملنے والے اسباق کا جائزہ لیں گے۔ اس وبا نے واضح کر دیا ہے کہ
کسی ایک علاقے میں پھوٹنے والی بیماری کتنی تیزی سے عالمی ہنگامی صورتحال میں بدل
سکتی ہے۔ اس نے ویکسین، ادویات اور دیگر ضروری طبی
وسائل تک رسائی میں موجود نمایاں عدم مساوات کو بھی بے نقاب کیا۔ اس اجلاس
میں عالمی رہنما صحت کے نظام کو مضبوط بنانے، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی استعداد
بہتر کرنے اور صحت کے آئندہ بحرانوں میں مزید منصفانہ عالمی اقدامات کو یقینی
بنانے کے طریقوں پر غور کریں گے۔
حقوق،
مساوات اور شمولیت
جنرل اسمبلی کے
منظور کردہ اعلامیہ برائے حق ترقی کی 40ویں سالگرہ کے موقع پر 23 ستمبر کو ایک اور
اہم اجلاس منعقد ہو گا۔ اس اعلامیے نے یہ تصور واضح کیا تھا کہ ترقی محض معاشی نمو
کا نام نہیں بلکہ اس میں عوام کی شرکت، مواقع کی فراہمی اور مساوات و انصاف بھی
بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ 28 ستمبر
کو ڈربن اعلامیہ اور پروگرام عمل کی 25ویں سالگرہ منائے گا۔ یہ نسل پرستی، نسلی
امتیاز، غیرملکیوں سے نفرت اور دیگر تعصبات کے خلاف جدوجہد کے لیے اہم عالمی فریم
ورک ہے۔ اس موقع پر اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے ساتھ اس بات پر بھی
غور کیا جائے گا کہ دنیا کے
مختلف حصوں میں لوگوں سے امتیازی سلوک آج بھی کیوں برقرار ہے۔
جوہری
تخفیف اسلحہ
سرگرمیوں
کا یہ سلسلہ 29 ستمبر کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس پر ختم ہو گا جو کہ جوہری ہتھیاروں
کے مکمل خاتمے کے عالمی دن پر منعقد کیا جائے گا۔ جوہری تخفیف اسلحہ اقوام
متحدہ کے قیام
کے ابتدائی دور سے ہی اس کے ایجنڈے میں شامل اہم ترین مسائل میں شامل رہا ہے۔ تاہم،
تقریباً آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود جوہری ہتھیار عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بنے
ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ جوہری
ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کو تخفیف اسلحہ کے
میدان میں اپنی اعلیٰ ترین ترجیح قرار دیتا ہے۔
ہم عوام'
امسال جنرل اسمبلی کا
اعلیٰ سطحی ہفتہ ایسے وقت منعقد ہو رہا ہے جب بین الاقوامی تعاون شدید دباؤ کا
شکار ہے۔ مسلح تنازعات اور موسمیاتی تبدیلی سے لے کر بڑھتی معاشی و
سماجی ناہمواری تک، دنیا کو
بہت سے ایسے مسائل سامنا ہے جنہیں کوئی ایک ملک تنہا حل نہیں کر سکتا۔ گزشتہ دنوں اقوام
متحدہ کے
سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے ادارے کے منشور کے ابتدائی الفاظ کی جانب توجہ
دلاتے ہوئے کہا کہ اس منشور کا آغاز 'ہم طاقتور لوگ' یا 'ہم فاتحین' سے نہیں بلکہ
'ہم عوام' سے ہوتا ہے، یعنی ہم سب، جو ایک ایسے مشترکہ یقین کے تحت متحد ہیں کہ جب
ہم مل کر کھڑے ہوتے ہیں تو زیادہ محفوظ، زیادہ مضبوط اور زیادہ انسان دوست ہوتے
ہیں۔
قیادت میں تبدیلی
جنرل اسمبلی کا
81واں اجلاس موجودہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش کے لیے بھی آخری اجلاس ہو گا۔ ان
کی دوسری اور آخری پانچ سالہ مدت رواں سال 31 دسمبر کو ختم ہو رہی ہے۔ ان کے
جانشین کے انتخاب کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ نئے سیکرٹری جنرل یکم جنوری 2027
کو منصب سنبھالیں گے اور انہیں ایسا اقوام
متحدہ ورثے میں
ملے گا جسے متعدد پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے۔ یہی مسائل جنرل اسمبلی کے
اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز ہوں گے۔