ڈابلن
کی سڑکوں پر احتجاج کرنے والے آئرش عوام ٹرمپ کو "عالمی نظام کے نجات
دہندہ" کے طور پر نہیں بلکہ جنگ اور بحران کے سبب کے طور پر پیش کر رہے تھے۔
اس احتجاج میں مختلف سیاسی اور سماجی گروہ شریک تھے اور مظاہرین فلسطین اور ایران
سمیت خطے میں رونما ہونے والی جنگوں اور بحرانوں میں امریکہ کے کردار کو تنقید کا
نشانہ بنا رہے تھے۔ حتی ٹرمپ کے دورے سے پہلے ہی اس احتجاجی مظاہرے کی کال دی جا
چکی تھی اور یہ اعلان بھی کر دیا گیا تھا کہ اس کا مقصد امریکی صدر اور امریکہ کی
جنگ پسندانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکی پرچم نذر
آتش کیے جانے سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آئرلینڈ کی عوام میں ٹرمپ
اور امریکی پالیسیوں کے خلاف کس قدر غصہ پایا جاتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت آئرلینڈ کے دورے پر ہے۔
اس نے ایسے حال میں آئرلینڈ کی سرزمین پر قدم رکھا ہے جب آئرش عوام نہ صرف اس کے
دورے کا خیرمقدم نہیں کر رہے بلکہ ڈوبلن کے شہر میں ہزاروں مظاہرین نے احتجاجی
مظاہرہ کر کے اس کے خلاف واضح پیغام دیا ہے۔ آئرلینڈ کے عوام نے اس بات پر زور دیا
ہے کہ جنگ کو معمول بنان اور نسل کشی کسی قیمت پر قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ مظاہرین
نے آئرلینڈ کے دارالحکومت میں امریکہ مخالف احتجاج کیا اور فلسطین اور ایران سے
متعلق امریکی پالیسیوں کی مخالفت کا کھل کر اظہار کیا۔ اس مظاہرے میں حتی امریکی
پرچم بھی نذر آتش کیا گیا۔ یوں امریکی صدر کا یورپ میں امریکہ کے قریبی ترین ملک کا
یہ دورہ عالمی رائے عامہ اور امریکی طاقت کے درمیان پائی جانے والی گہری خلیج کا
منظر پیش کر رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا آئرلینڈ کا دورہ ایسے حالات میں انجام
پایا ہے جب واشنگٹن خود کو بدستور عالمی حالات میں فیصلہ کن طاقت اور بین الاقوامی
تنازعات کے حل میں مرکزی کردار کا حامل ظاہر کرنے پر مصر دکھائی دیتا ہے۔ لیکن جو
کچھ امریکی صدر کے دورے کے دوران ڈابلن میں وقوع پذیر ہوا ہے وہ دنیا کے سامنے کچھ
اور ہی منظر پیش کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے ایسے وقت آئرلینڈ کے دارالحکومت میں اس ملک کے
حکام سے ملاقاتیں انجام دیں جب ہزاروں مظاہرین ڈابلن کی سڑکوں پر اس کی آمد اور
امریکہ کی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی میں مشغول تھے۔ اس دوران آئرلینڈ کی صدر کا
موقف بھی خاص اہمیت کا حامل ہے۔ کیتھرائن کینلی نے ٹرمپ سے ملاقات کے بعد اعلان
کیا کہ آئرش عوام جنگ کو معمول بنانے اور نسل کشی کے شدید مخالف ہیں۔
اگرچہ ان کے اس موقف میں کسی خاص ملک یا جنگ کا ذکر
نہیں ہوا لیکن ماضی میں آئرش صدر کینلی کی جانب سے مغربی ایشیا کی جنگوں اور
فلسطین کی حمایت سے متعلق اختیار کیے گئے موقف اور بیانات سے ان کی مراد پوری طرح
واضح ہو جاتی ہے۔ کیتھرائن کینلی کی آفیشل ویب سائٹ نے بھی "جنگ کو معمول
بنانے اور نسل کشی کے ناقابل قبول ہونے" پر اسی موقف کو شائع کیا ہے۔ جو چیز
اس احتجاج کو امریکہ کے لیے اہم بناتی ہے وہ محض ایک احتجاجی مظاہرہ نہیں ہے بلکہ
زیادہ اہم اس تصویر کشی میں تبدیلی ہے جو امریکہ نے گذشتہ چند عشروں سے یورپ میں
اپنے بارے میں کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایسی تصویر جس کی بنیاد امریکہ کی طاقت،
سیکورٹی، جمہوریت اور بین الاقوامی نظام کے محافظ کے طور پر امریکہ کے کردار پر
مشتمل تھی۔
ڈابلن کی سڑکوں پر احتجاج کرنے والے آئرش عوام ٹرمپ کو
"عالمی نظام کے نجات دہندہ" کے طور پر نہیں بلکہ جنگ اور بحران کے سبب
کے طور پر پیش کر رہے تھے۔ اس احتجاج میں مختلف سیاسی اور سماجی گروہ شریک تھے اور
مظاہرین فلسطین اور ایران سمیت خطے میں رونما ہونے والی جنگوں اور بحرانوں میں
امریکہ کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے۔ حتی ٹرمپ کے دورے سے پہلے ہی اس
احتجاجی مظاہرے کی کال دی جا چکی تھی اور یہ اعلان بھی کر دیا گیا تھا کہ اس کا
مقصد امریکی صدر اور امریکہ کی جنگ پسندانہ پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔ سب
سے بڑھ کر یہ کہ امریکی پرچم نذر آتش کیے جانے سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا
ہے کہ آئرلینڈ کی عوام میں ٹرمپ اور امریکی پالیسیوں کے خلاف کس قدر غصہ پایا جاتا
ہے۔
مزید برآں آئرلینڈ کی صدر کا یہ بیان کہ "جنگ کو
معمول بنانا اور نسل کشی کسی قیمت پر بھی قابل قبول نہیں ہے" اس لحاظ سے بہت
زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ انہوں نے یہ بات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے
دوران سب کے سامنے کہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک یورپی ملک کا صدر صرف
"باہمی تعاون" اور "دوستانہ تعلقات" پر بات کرنے کی بجائے جنگ
اور نسل کشی کو ایک اخلاقی سرحد کے طور پر متعارف کرواتا ہے۔ ڈابلن کا احتجاجی
مظاہرہ صرف فلسطین کے بارے میں نہیں تھا بلکہ اس میں امریکہ کی ایران مخالف
پالیسیوں کی بھی شدید مخالفت کی گئی ہے۔ اس کی اہمیت اس وقت مزید عیاں ہوتی ہے جب
ہم دیکھتے ہیں کہ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ایشو ایران کے خلاف جنگ ہے اور
خود ٹرمپ نے بھی اس دورے میں اس بارے میں بیان دیا ہے۔
اس دورے کا ایک اور اہم نکتہ ٹرمپ کی جانب سے آئرلینڈ
کے اتحاد کے بارے میں بیان پر مشتمل ہے۔ امریکی صدر نے اعلان کیا کہ وہ جمہوریہ
آئرلینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں اتحاد کا خیرمقدم کرے گا۔ شمالی آئرلینڈ کا مسئلہ
تاریخی اور سیاسی لحاظ سے بہت ہی حساس ہے جس کے باعث ان کے اس بیان پر مختلف ردعمل
بھی سامنے آئے ہیں۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن خود کو ایسی طاقت ظاہر
کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو مختلف علاقائی تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
لیکن جس طرح مغربی ایشیا میں دیکھا گیا ہے یہ بیرونی مداخلت ہر جگہ برداشت نہیں کی
جاتی۔ ٹرمپ نے ایسے وقت شمالی آئرلینڈ کی بات کی ہے جب خود امریکہ ہمیشہ سے ممالک
کی خودمختاری اور حق خود ارادیت پر زور دیتا آیا ہے۔ انہی تضادات نے عالمی رائے
عامہ میں امریکہ کی حیثیت اور اعتبار ختم کر ڈالا ہے۔