اسرائیل کی سیاست میں ایک طویل عرصے
سے نمایاں مقام رکھنے والے وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کو اب سابق فوجی سربراہ
گادی آئزن کوٹ کی صورت میں ایک اہم ترین چیلنج کا سامنا ہے۔ ستائیس اکتوبر کو ہونے
والے انتخابات میں آئزن کوٹ اپنی جماعت ’یاشار‘ کے ساتھ میدان میں ہیں اور رائے عامہ
کے جائزوں کے مطابق ان کی جماعت کو نیتن یاہو کی پارٹی ’لیکوڈ‘ پر برتری حاصل ہے۔
آئزن کوٹ کا انداز سیاست نیتن یاہو سے بالکل مختلف ہے؛ وہ کم گو ہیں، میڈیا سے
زیادہ میل جول نہیں رکھتے اور اپنی اکتالیس سالہ فوجی خدمات (جن میں 2015 سے 2019
تک فوج کی سربراہی بھی شامل ہے) کو اپنی انتخابی مہم کا محور بناتے ہیں۔ ان کی
مقبولیت میں اس عنصر کا بھی اہم ہاتھ ہے کہ غزہ میں جاری لڑائی کے دوران ان کا ایک
بیٹا اور دو بھتیجے ہلاک ہو چکے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے
مطابق، گادی آئزن کوٹ کی آمد اسرائیلی پالیسیوں میں کسی بڑی نرمی کی ہرگز ضمانت
نہیں ہے۔ اگرچہ وہ نیتن یاہو کی قیادت اور ان کے دائیں بازو کے اتحادیوں (جیسے
ایتامار بن گویر اور بیزلیل سموٹریچ) کے سخت مخالف ہیں، تاہم فلسطینی ریاست کے
قیام اور حماس کے معاملے پر ان کا مؤقف بھی کافی سخت ہے۔ حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے
حملے کے بعد وہ نیتن یاہو کی جنگی کابینہ میں مبصر کے طور پر شامل ہوئے تھے، لیکن
آٹھ ماہ بعد حکومت کی حکمت عملی پر اختلاف کے باعث کابینہ چھوڑ گئے تھے۔ ان کا
کہنا ہے کہ اسرائیل تین سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود حماس کی مکمل فوجی اور
حکومتی طاقت ختم کرنے کا ہدف حاصل نہیں کر سکا۔
سکیورٹی اور خارجہ پالیسی کے حوالے
سے آئزن کوٹ کا ہدف حماس کی فوجی طاقت کا خاتمہ اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل
کرنے سے روکنا ہے، جس کے لیے وہ فوجی کارروائی یا امریکی حمایت یافتہ سفارتی
معاہدے دونوں کے حامی ہیں۔ نیتن یاہو کی مخالفت کے باوجود وہ فلسطینی ریاست کے
قیام کے حامی نہیں ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ دریائے اردن سے بحیرہ روم تک سکیوریٹی
کے تمام معاملات پر اسرائیل کا حتمی اختیار ہونا چاہیے۔ مراکش سے ہجرت کرنے والے
یہودی خاندان سے تعلق رکھنے والے آئزن کوٹ اگر وزیر اعظم منتخب ہوتے ہیں تو وہ اس
میزراحی یہودی برادری سے تعلق رکھنے والے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم ہوں گے۔ تاہم،
انتخابات میں کامیابی کے بعد بھی عرب اسرائیلی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کے مخالف
ہونے کی وجہ سے ان کے لیے مخلوط حکومت سازی اور مطلوبہ اکثریت حاصل کرنا ایک مشکل
امر ہو گا۔