جرمن چانسلر فریڈرک مرز کی یوکرین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے غیر اعلانیہ
دورے کے دوران روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف کے ایک اہم پل پر ڈرون حملہ کیا.
جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوگئے۔ جرمن چانسلر نے یوکرین کے لیے حمایت کا
اعادہ کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا
ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی ڈرون نے دریائے دنیپرو پر واقع
کیف کے اہم ’ناردرن برج‘ کو نشانہ بنایا۔ شہر کے دونوں اطراف سفر کرنے والے ہزاروں
شہری روزانہ یہ پل استعمال کرتے ہیں۔اس حملے کو روس کی اس حکمت عملی کا نتیجہ قرار
دیا جارہا ہے جس کے نتیجے میں مسلسل چار روز سے کیف کے پلوں کو نشانہ بنایا جارہا
ہے۔یہ حملے ایسے وقت میں ہوا جب پل کے اوپر گاڑیوں کی آمد و رفت جارہی تھی، اسی
دوران ایک ڈرون پل سے ٹکرایا اور دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ کیف کے میئر وٹالی
کلیچکو کے مطابق حملے میں دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔جرمن چانسلر فریڈرک مرز اس حملے
سے کچھ ہی دیر قبل کیف پہنچے تھے۔ جرمن چانسلر کا یہ غیر اعلانیہ دورہ ایسے وقت
میں ہوا ہے جب یوکرین کو جنگ کے آغاز کے بعد روسی کے حملوں میں تیزی کے باعث
انتہائی نازک حالات کا سامنا ہے۔رپورٹس کے مطابق روس نے حالیہ ہفتوں میں کیف پر
نئے جیٹ پاورڈ ڈرونز کے ذریعے مسلسل حملوں میں اضافہ کیا ہے، جس کا مقصد سردیوں سے
قبل توانائی کے نظام کو تباہ کرنا ہے۔یہ حملے روس کی اس وسیع تر مہم کا حصہ ہیں جس
میں لاجسٹکس ہبز، ریلوے لائنز، ڈیٹا سینٹرز، میڈیکل اسٹوریج اور اسٹیل پلانٹس کو
نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ہفتے کے روز روسی دفترِ خارجہ نے غیر ملکیوں اور سفارتی
عملے کو یوکرین چھوڑنے سے متعلق ایک انتباہ بھی جاری کیا تھا، تاہم جرمنی سمیت
متعدد غیر ملکی سفیروں نے کیف میں ہی رہنے کا اعلان کیا ہے۔
واضح رہے کہ فریڈرک مرز یورپ میں
یوکرین کے نمایاں حامیوں میں شمار ہوتے ہیں اور روس کی جانب سے دیگر ممالک کے خلاف
مبینہ ہائبرڈ مہم کے بارے میں بھی دعوے کرتے رہے ہیں۔فریڈرک مرز کی جانب سے مئی
2025 میں چانسلر کا منصب سنبھالنے کے بعد جرمنی یوکرین کو فوجی امداد فراہم کرنے
والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے جب کہ یوکرین کے لیے امریکی امداد میں بھی کمی آئی
ہے۔جرمنی نے گزشتہ ماہ روس پر ہالے ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی مبینہ سازش میں
ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ یہ ایئرپورٹ مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو
فوجی امداد کی ترسیل کے لیے ایک اہم لاجسٹکس مرکز ہے۔یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی
نے جرمن چانلسر سے ملاقات کے دوران کہا کہ روسی حملوں کے باعث کیف کے شہریوں کے دن
اور رات خوف میں گزر رہے ہیں۔جرمن چانسلر نے کیف میں گفتگو کرتے ہوئے روسی حملوں
کے یورپ تک پہنچنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کو جرمنی سمیت
اپنے اتحادیوں کی بھرپور حمایت درکار ہے کیوں کہ اگر روس کو نہ روکا گیا تو اس کی جنگی
مشین یورپ کا رُخ بھی کرسکتی ہے۔زیلنسکی نے ہفتے کو رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو
میں روسی حملوں کے جواب میں روسی آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ تیز کرنے
کا اعلان کیا تھا۔روسی وزارتِ دفاع نے اتوار کے روز اس انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے
کہا کہ روس زیلنسکی کے اس بیان کے بعد کیف اور یوکرین کے دیگر علاقوں پر حملوں میں
اضافہ کرے گا۔