سیب
کا سرکہ گزشتہ کچھ عرصے سے اپنی طبی افادیت کے باعث عالمی سطح پر موضوع بحث بنا
ہوا ہے۔ سیب کی مٹھاس کو خمیر کر
کے تیار کیے جانے والے اس سرکے میں ایسٹک ایسڈ بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے جو اس
کے اہم خواص کا باعث ہے۔ طبی ماہرین عمومی طور پر روزانہ ایک سے 2 چائے کے چمچ سیب
کا سرکہ استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس کے استعمال کا بہترین طریقہ اسے پانی
یا کسی محفوظ غذا کے ساتھ ملا کر پینا ہے تاکہ اس کی تیزابیت سے صحت کو نقصان نہ
پہنچے۔
وزن میں کمی کے خواہشمند
افراد اکثر اسے جادوئی ٹوٹکا سمجھتے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق یہ وقتی طور پر پیٹ
بھرا محسوس کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اسے تیزی سے وزن گھٹانے کا یقینی ذریعہ قرار
دینا سائنسی اعتبار سے درست نہیں ہے اور نہ ہی یہ دوا کا متبادل ہے۔ خون میں شوگر
لیول کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے کچھ ابتدائی تحقیقی رپورٹس میں بہتری کے اشارے
ملے ہیں۔ تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریض اسے اپنی باقاعدہ
ادویات کا متبادل ہرگز نہ سمجھیں اور نہ ہی ادویات کا استعمال ترک کریں۔
سیب کے سرکے میں جراثیم
کش خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے اسے روایتی طور پر جلد کی صفائی اور
دیگر گھریلو مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود اسے کسی بھی بیماری
کا مکمل علاج سمجھ کر ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ دل
کی صحت کے لیے اس کے مثبت اثرات کے دعوے کیے جاتے ہیں، جن میں کولیسٹرول اور بلڈ
پریشر میں کمی شامل ہے، لیکن طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے دل کے امراض سے بچاؤ کے
لیے واحد مستند علاج قرار دینا ممکن نہیں ہے۔ جلد کے مسائل جیسے ایکزیما یا خشکی
کے لیے اس کا براہِ راست استعمال جلد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سرکے کی تیزابیت
دانتوں کی اوپری تہہ اور معدے کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ لہذا، کسی بھی طبی مسئلے
کے حل کے لیے ہمیشہ ماہر ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ہی دانشمندی ہے۔