ایک نشریاتی ادارے سے گفتگو
کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا كہفلسطین
کی مظلوم عوام کے دفاع کے لیے بھی اتحاد بنانا چاہئے مسلمان ممالک میں کوئی غیرت
مند ایسا سربراہ نہیں جو تم من دھن سے فلسطین کے لئے آخری سانس تک لڑنے کا اعلان
کرئے ، بہرحال فلسطینیوں کا اللہ حافظ ہے لیکن روز محشر ان اسلامی سربراہوں اور ان
کی افواج کے سربرایوں سے ضرور پوچھ ہو گئی کہ تمام وسائل رکھنے کے باوجودتم نے
مظلوموں کی مدد کیوں نہ کی۔
ایک نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے
ہوئے برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دو ریاستی حل اسرائیلیوں اور فلسطینیوں
دونوں کی سلامتی اور وقار کے لیے ناگزیر ہے، یہ حل مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے لیے
انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی اشیاء پر پابندی عائد کرنے سے
قبل برطانوی یہودی گروہوں، فلسطینی نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔
دوسری
جانب برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ایڈ ملی بینڈ Ed Miliband کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے برطانوی قونصل خانہ
بند کرنے کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ برطانوی وزیرِ خارجہ ایڈملی بینڈ نے برطانوی
نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے مشرقی مقبوضہ بیت المقدس میں
برطانوی قونصل خانے کو 30 روز میں بند کرنے کے حکم پر ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان
کا کہنا ہے کہ دہشت گرد قابضین فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرتے ہیں،
فلسطینیوں کی بے دخلی پر اسرائیلی حکومت آنکھیں بند کیے رکھتی ہے۔ برطانوی وزیرِ
خارجہ نے کہا ہے کہ اس صورتِحال کے خلاف آواز اٹھانا درست ہے، برطانیہ خاموش یا
غیر فعال نہیں رہ سکتا تھا، برطانیہ کے لیے اسرائیلی بستیوں کی سرگرمیوں کے خلاف
آواز اٹھانا ضروری تھا۔
ایڈ ملی بینڈ Ed Miliband کا
کہنا ہے کہ دو ریاستی حل اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کی سلامتی اور وقار کے
لیے ناگزیر ہے، یہ حل مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے یہ
بھی کہا کہ اسرائیلی اشیاء پر پابندی عائد کرنے سے قبل برطانوی یہودی گروہوں،
فلسطینی نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔ واضح رہے کہ برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ایڈ ملی
بینڈ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے درآمد ہونے والی اشیاء پر
پابندی عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے
خلاف تشدد میں ملوث افراد اور اداروں پر مزید پابندیاں بھی لگائی جائیں گی۔