وینزویلا کے گرفتار صدر نکولس
مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس نے امریکا میں تشدد کی سازش کے نئے الزامات
مسترد کرتے ہوئے صحتِ جرم سے انکار کر دیا ہے۔
ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کے
مطابق مادورو اور ان کی اہلیہ جمعرات کو نیویارک کی وفاقی عدالت میں پیش ہوئے۔
مادورو نے نئے الزامات کو سابقہ بے بنیاد دعوؤں کی نئی شکل قرار دیا، جبکہ دونوں
نے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔
امریکی استغاثہ نے الزام عائد کیا
ہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ وینزویلا کی حراست میں رکھے گئے امریکی شہریوں اور
دیگر افراد پر تشدد کی سازش میں ملوث رہے۔ دونوں کو منشیات اور اسلحے سے متعلق
الزامات کا بھی سامنا ہے۔ مادورو اور سیلیا فلورس کے وکلا کا مؤقف ہے کہ ایک
خودمختار ملک کے صدر اور خاتونِ اول کی حیثیت سے انہیں قانونی استثنیٰ حاصل ہے۔
عدالت نے مقدمہ خارج کرنے سے متعلق دفاع کے دلائل سننے کے لیے 17 دسمبر کی تاریخ
مقرر کی ہے۔
عدالت نے استغاثہ اور دفاع کی
مشترکہ درخواست پر مقدمے کی سماعت بھی دو ہفتے آگے بڑھا کر آئندہ سال 14 جون تک
ملتوی کر دی، تاکہ ابتدائی قانونی درخواستیں دائر کرنے کے لیے مزید وقت مل سکے۔ مادورو اور ان کی اہلیہ
جنوری میں وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں اپنی رہائش گاہ سے امریکی فورسز کے
ہاتھوں گرفتاری کے بعد نیویارک منتقل کیے گئے تھے اور اس وقت بروکلین کی جیل میں
قید ہیں۔ مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا کی قیادت ان کی سابق نائب صدر روڈریگز
سنبھال چکی ہیں، جنہوں نے واشنگٹن کے ساتھ تعاون میں اضافہ کیا ہے۔