پیرس آٹو شو 2026 میں چینی آٹو
موبائل کمپنیوں کی نمایاں موجودگی نے یورپی کار ساز اداروں کے لیے نئے چیلنجز کھڑے
کردیے ہیں۔ نمائش میں شریک 21 آٹو موبائل کمپنیوں میں سے 11 کا تعلق چین سے ہے، جو
ظاہر کرتا ہے کہ چینی برانڈز اب یورپی مارکیٹ میں مضبوط قدم جما چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اگست میں یورپی
یونین اور برطانیہ میں نئی گاڑیوں کی فروخت میں چینی برانڈز کا حصہ تقریباً 12
فیصد رہا، جبکہ رواں سال اس خطے میں چینی گاڑیوں کی فروخت 10 لاکھ یونٹس سے تجاوز
کرنے کا امکان ہے۔ چینی کمپنیاں جدید ٹیکنالوجی، پُرتعیش انٹیریئر اور نسبتاً کم
قیمت والی گاڑیوں کے ذریعے مرسڈیز بینز، بی ایم ڈبلیو، آڈی اور رینج روور جیسے
معروف برانڈز کو براہِ راست چیلنج کررہی ہیں۔
نمائش میں چینی کمپنی زیکر کی نئی 9X پلگ اِن ہائبرڈ ایس یو وی خاص توجہ
کا مرکز رہی۔ اس گاڑی میں 897 ہارس پاور کا پاور ٹرین، چھ افراد کے بیٹھنے کی
گنجائش اور جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ گاڑی صرف برقی طاقت
پر تقریباً 112 میل سفر کرسکتی ہے، جبکہ مجموعی ڈرائیونگ رینج 458 میل تک ہے۔
یورپی مارکیٹ میں اس کی قیمت تقریباً 1 لاکھ 37 ہزار ڈالر کے مساوی بتائی گئی ہے۔
چین کی ایک اور کمپنی ڈینزا نے اپنی Z Spider الیکٹرک سپرکار
پیش کی، جو 1,579 ہارس پاور کی طاقت رکھتی ہے اور 2.3 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں صفر
سے 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرسکتی ہے۔ اس گاڑی کو اعلیٰ کارکردگی والی مہنگی
یورپی سپرکاروں کے مقابلے میں نسبتاً کم قیمت پر پیش کرنے کی حکمت عملی اہم قرار
دی جارہی ہے۔
دوسری جانب یورپی کمپنیوں نے بھی نئی
گاڑیوں اور کانسیپٹ ماڈلز کے ذریعے مقابلے کی تیاری دکھائی۔ ووکس ویگن نے اپنی نئی
الیکٹرک ایس یو وی ID.Tiguan متعارف کرائی، جبکہ آڈی نے A2 E-Tron الیکٹرک کار پیش کی۔ فورڈ نے بھی
2029 تک یورپ میں پانچ نئے ماڈلز متعارف کرانے کے منصوبے کا اعلان کیا، جن میں
الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیاں شامل ہوں گی۔
نمائش میں اسٹیلینٹس گروپ کے مختلف
برانڈز نے بھی مستقبل کی گاڑیوں کے کانسیپٹس پیش کیے۔ ان میں سٹروئن کی الیکٹرک 2CV، پیوجو کی طاقتور E-T16 الیکٹرک اسپورٹس کار اور رینالٹ کی E-Space کانسیپٹ نمایاں رہیں۔ سٹروئن کے
مطابق نئی الیکٹرک 2CV کو 2028 میں متعارف کرانے کا منصوبہ ہے، جس کی متوقع قیمت تقریباً
15 ہزار ڈالر اور رینج 125 میل ہوگی۔
ماہرین کے مطابق پیرس آٹو شو 2026 نے
واضح کردیا ہے کہ عالمی آٹو موبائل انڈسٹری میں مقابلہ اب صرف قیمت تک محدود نہیں
رہا، بلکہ جدید بیٹری ٹیکنالوجی، تیز چارجنگ، ڈیزائن اور گاڑیوں کی کارکردگی بھی
فیصلہ کن عوامل بن چکے ہیں۔ چینی کمپنیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی موجودگی کے باعث
یورپی مینوفیکچررز اپنی مصنوعات کو مزید منفرد اور مسابقتی بنانے پر توجہ دے رہے
ہیں۔