افغانستان میں غذائی قلت اور بھوک اب تک کی بلند ترین سطح پر
پہنچ گئی ہے۔ ملک میں ایک کروڑ 59 لاکھ افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے
اور آئندہ مہینوں میں حالات مزید بگڑنے کا اندیشہ ہے۔ اقوام متحدہ کے
مختلف اداروں کے سربراہان نے افغانستان کو درپیش اس بحران پر قابو پانے کے لیے ہنگامی
امداد کی اپیل کی ہے۔
ملک میں اقوام متحدہ کے معاون مشن
(یوناما) نے ملک کی صورتحال پر اپنی تازہ ترین رپورت میں حقوق کی سنگین پامالیوں
کے مزید واقعات کی تفصیل بیان کی ہے جن میں سرعام کوڑے مارنے کی سزاؤں سے لے کر
احتجاجی مظاہروں پر نئی پابندی تک متعدد اقدامات شامل ہیں۔
غذائی تحفظ کے مراحل کی مربوط درجہ بندی (آئی پی سی) کے مطابق،
اگست سے اکتوبر کے دوران ملک میں لاکھوں لوگ شدید بھوک کا شکار ہوئے ہیں۔ معاشی
دباؤ کے باعث گھرانوں کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ آبادی کے 32 فی صد سے زیادہ حصے کو
غذائی عدم تحفظ کے تیسرے یا اس سے بلند درجے کا سامنا ہے جبکہ 34 لاکھ افراد
ہنگامی نوعیت کی غذائی قلت کا شکار ہیں جو شدید بھوک کا چوتھا درجہ کہلاتا ہے۔ رپورٹ
کے مطابق، بیماریوں کا پھیلاؤ، صاف پانی، نکاسی آب اور حفظان صحت کی ناکافی
سہولتیں اور غذائیت سے متعلق خدمات تک رسائی میں نمایاں کمی اس بگڑتی صورتحال کی
بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔
غذائی قلت بڑھنے کا خدشہ
خدشہ ہے کہ نومبر سے اپریل کے دوران حالات مزید سنگین ہو جائیں
گے۔ اس مدت میں تقریباً ایک کروڑ 92 لاکھ افراد کو غذائی عدم تحفظ کے تیسرے یا اس
سے بلند درجے سے متاثر ہونے کا خدشہ ہے جن میں سے 50 لاکھ افراد کو ہنگامی نوعیت
کی غذائی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔
شدید غذائی قلت کا شکار افراد کی
تعداد میں بھی نمایاں اضافے کا اندیشہ ہے۔ جنوری سے دسمبر 2027
کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے 40 لاکھ 40 ہزار بچوں کو غذائی قلت کے علاج کی
ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
امدادی اقدامات کا موقع
عالمی پروگرام برائے خوراک(ڈبلیو ایف پی) اور اقوام متحدہ کے
ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتے ہوئے فوری
مالی امداد کے لیے اپیل کی ہے۔ دونوں اداروں نے خوراک کی فراہمی، ہنگامی زرعی
معاونت، غذائی قلت کی روک تھام اور علاج کے اقدامات کو وسعت دینے پر زور دیا ہے۔ افغانستان
میں 'ڈبلیو ایف پی' کے ڈائریکٹر جان ایلیف نے کہا ہے کہ امدادی اقدامات کا موقع
موجود ہے لیکن یہ تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ فوری مدد ملنے کی صورت میں لوگ موسم
سرما عزت و وقار سے گزار سکتے ہیں۔ اگر امداد نہ ملی تو بہت سے والدین کو ایسے
کٹھن فیصلے کرنا پڑیں گے جن پر کسی بھی ماں باپ کو مجبور نہیں ہونا چاہیے۔ ادارۂ
خوراک و زراعت کے نمائندے رچرڈ ٹرینچرڈ نے کہا ہے کہ لوگوں کو ایسی معاونت اور
روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے جن سے وہ مستقل آمدنی حاصل کر سکیں، آئندہ
بحرانوں کا مقابلہ کر سکیں اور موسم سرما کی مشکلات سے نکل سکیں۔
خواتین اور صحافت پر قدغن
'یوناما' نے اپنی
رپورٹ میں بتایا ہے کہ جولائی سے ستمبر کے دوران ملک بھر میں بنیادی انسانی حقوق
کی صورتحال مسلسل خراب ہوتی رہی جس کا سب سے زیادہ بوجھ طالبان حکام کی عائد کردہ
پابندیوں کے باعث خواتین اور لڑکیوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
رپورٹ کے اہم نکات
لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی: لڑکیوں کو اب بھی چھٹی جماعت سے
آگے باقاعدہ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس پابندی کے بارے
میں سوال کیے جانے پر طالبان کے ایک ترجمان نے کہا کہ شریعت کے نقطہ نظر سے بعض
مسائل اور پہلوؤں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ خواتین کی
گرفتاریاں: اقوام متحدہ کے مشن نے حجاب سے متعلق سزاؤں کے 50 سے زیادہ واقعات
ریکارڈ کیے ہیں جن میں سے بیشتر ہرات اور کابل میں پیش آئے۔ ایک واقعے میں 13 سالہ
لڑکی کو رات بھر حراست میں رکھا گیا۔
علاوہ ازیں، خواتین کو محرم، یعنی مرد
سرپرست کے بغیر طبی مراکز اور بازاروں میں داخل ہونے سے بھی روکا گیا۔ ناجائز
حراستیں: مشن نے لوگوں کو ناجائز طور پر حراست میں لیے جانے کے کم از کم 443
واقعات ریکارڈ کیے جبکہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں کی جانب سے
بدسلوکی کے 97 واقعات بھی سامنے آئے۔ یہ کارروائیاں حجاب کے قواعد کی خلاف ورزی،
داڑھی کے بال تراشنے، نماز نہ پڑھنے اور موسیقی سننے جیسے افعال پر کی گئیں۔
عدالتی حکم پر جسمانی سزائیں: اگرچہ طالبان کی قائم کردہ سپریم
کورٹ نے اپریل میں اپنی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر سرعام سزاؤں کا اعلان
کرنا بند کر دیا تھا، تاہم 'یوناما' نے 22 مردوں اور چھ خواتین کو سرعام کوڑے مارے
جانے کے واقعات ریکارڈ کیے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سابق حکومت کی سکیورٹی
فورسز کے 14 اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا جبکہ چار اہلکاروں کو ہلاک کر دیا گیا۔ ذرائع
ابلاغ اور شہری آزادیوں پر قدغن: متعدد صحافتی اداروں کو واضح وجوہات بتائے بغیر
معطل کر دیا گیا اور ان فیصلوں کے خلاف اپیل کا کوئی طریقہ کار بھی فراہم نہیں کیا
گیا۔ اگست میں شائع ہونے والے پولیس کے ایک نئے قانون کے تحت تمام احتجاجی مظاہروں
پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
سرحد پار تشدد: اکتوبر 2025 سے اب تک
سرحد پار تشدد کے واقعات میں 512 شہری ہلاک اور 1,236 زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں سے
33 شہری گزشتہ سہ ماہی کے دوران ہلاک یا زخمی ہوئے جن میں پاکستان کی جانب سے کنڑ
اور ہلمند میں حملوں کے دوران بچوں کی ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔