عالمی ادارہ
صحت(ڈبلیو ایچ او) نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ سیسہ کے مضر اثرات سے بچاؤ کے
لیے اپنی کوششیں تیز کریں جس سے دنیا بھر
میں ہر سال 35 لاکھ سے زیادہ اموات ہوتی ہیں اور کروڑوں بچوں کی صحت کو اس سے
سنگین خطرہ لاحق ہے۔ ادارے نے یہ اپیل سیسہ سے لاحق نقصانات بارے
آگاہی کے لیے 18 سے 26 اکتوبر تک منائے جانے والے عالمی ہفتے سے قبل جاری کی ہے۔
'ڈبلیو ایچ او'
کا کہنا ہے کہ اگرچہ سیسہ کے اثرات سے بچاؤ ممکن ہے، تاہم
دنیا کے نصف سے بھی کم ممالک ایسے ہیں جنہوں نے سیسہ والے پینٹ کے
استعمال پر پابندی یا اس حوالے سے ضابطہ بندی کے لیے قانونی طور پر لازم العمل
قوانین کی توثیق کر رکھی ہے۔ بچوں کے لیے سیسہ کے خطرات خاص طور پر سنگین
ہیں کیونکہ ان کا نشوونما پاتا دماغ اور اعصابی نظام اس زہریلی دھات کے مضر اثرات
کے سامنے انتہائی حساس ہوتا ہے۔ Advertisement 'ڈبلیو ایچ او' میں شعبہ
ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی، انفرادی صحت اور نقل مکانی سے متعلق امور کے عبوری
ڈائریکٹر بروس گورڈن نے کہا ہے کہ بچوں کی صلاحیتوں کو سیسہ کی نذر نہیں ہونا
چاہیے۔ رکن ممالک کو بنیادی سطح پر ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جن کی بدولت سیسہ کو
بچوں کے خون میں شامل ہونے سے پہلے ہی مصنوعات اور ماحول سے خارج کیا جا سکے۔
ناقابل
تلافی نقصان
سیسہ کی آلودگی
مختلف ذرائع سے پھیل سکتی ہے جن میں پینٹ، کھانا بنانے کے برتن، جسمانی آرائش کی
اشیا، مصالحہ جات، غیر رسمی ری سائیکلنگ
اور صنعتی سرگرمیاں شامل ہیں۔ سیسہ سے آلودگی کی کوئی ایسی سطح
معلوم نہیں جسے مکمل طور پر محفوظ قرار دیا جا سکے اور اس کی نسبتاً کم مقدار بھی
ناقابل تلافی نقصان
پہنچا سکتی ہے۔ سیسہ کا زہر جسم کے متعدد اعضا کو متاثر
کرتا ہے۔ بالغ افراد میں یہ دل اور گردوں کی بیماریوں سمیت مختلف طبی مسائل کا سبب
بن سکتا ہے جبکہ بچوں کے دماغ، صحت اور نشوونما کو مستقل نقصان
پہنچاتا ہے۔ اس کے اثرات زندگی بھر برقرار رہ سکتے ہیں
جن میں سیکھنے میں دشواری، رویوں سے متعلق مسائل اور خرابی صحت شامل ہیں۔ چونکہ اس
زہر کی علامات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتیں اس لیے بہت سے متاثرہ افراد کی شناخت
اس وقت تک نہیں ہو پاتی جب تک ان کی صحت کو بھاری نقصان
نہ پہنچ چکا ہو۔
صحت
عامہ کا سنگین مسئلہ
'ڈبلیو ایچ او'
کے رکن ممالک نے سیسہ کے اثرات کو صحت عامہ کا سنگین مسئلہ تسلیم کرتے ہوئے ادارے
کو اس کے مضر اثرات میں کمی لانے کے لیے عالمی لائحہ عمل تیار کرنے کی ذمہ داری
سونپی ہے۔ یہ منصوبہ آئندہ سال 'ڈبلیو ایچ او' کی گورننگ باڈی اور ورلڈ ہیلتھ
اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ ادارہ آئندہ سال
سیسہ کے زہر سے بچاؤ کے لیےایک تکنیکی پیکیج بھی متعارف کرائے گا۔
اس
کا مقصد رکن ممالک کو عملی رہنمائی دینا ہے تاکہ وہ سیسہ کی آلودگی کے اہم ذرائع
کی نشاندہی کر سکیں، مزید موثر اقدامات کا تعین کریں اور قوانین و ضوابط کو مضبوط
کرنے کے ساتھ ان پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ گزشتہ سال
ادارے نے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر سیسہ کے زہر سے بچاؤ کے اقدام میں شمولیت
اختیار کی تھی۔ اس کا مقصد خون میں سیسے کی مقدار جانچنے کے لیے تجربہ گاہوں کی
صلاحیت کو بہتر بنانا اور اسے وسعت دینا ہے تاکہ سیسہ کے اثرات کی بروقت تشخیص
ممکن ہو سکے۔