یمن میں
دوبارہ شروع ہونے والی شدید لڑائی کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد بے گھر ہو گئی ہے۔
امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ
یمن اور ہمسایہ ملک جبوتی میں انسانی ضروریات
میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہو رہا ہے جہاں ہزاروں افراد پناہ لینے پر مجبور ہوئے
ہیں۔ ملک میں اقوام متحدہ کے ادارہ مہاجرین (آئی او ایم) کے
سربراہ عبدالستار عیسٰی یوف نے کہا ہے کہ ادارے کو پناہ گزین افراد کی مدد کے لیے
مزید امدادی وسائل کی ضرورت ہے جو اس وقت نہایت محدود ہیں اور بہت جلد ختم ہو
جائیں گے۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز اور ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے درمیان جھڑپیں شروع ہونے سے دو
ہفتے بعد 112,000 سے زیادہ افراد عدن، حدیدہ، آبین اور تعز کے علاقوں سے بے گھر ہو
چکے ہیں۔
پناہ
گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے 'یو این ایچ سی آر' کے
مطابق برسوں سے جاری
جنگ، معاشی تباہ حالی
اور ماحولیاتی آفات کے باعث پہلے ہی تقریباً 48 لاکھ یمنی شہری پناہ گزین کی حیثیت
سے زندگی گزار رہے تھے۔ یمن کے مغربی
ساحلی علاقوں میں تیزی سے بڑھتی لڑائی نے 3,000 سے زیادہ افراد کو خطرناک سمندری
سفر پر مجبور کیا ہے۔ یہ لوگ باب المندب آبنائے کو عبور کرکے محفوظ مقام کی تلاش
میں جبوتی پہنچے ہیں جہاں مقامی آبادی کے وسائل پر بھی شدید دباؤ آنے کا خدشہ ہے۔
جنیوا
میں یو این نیوز کی ڈائریکٹر ایلیساندرا ویلوچی Alessandra Vellucci, نے کہا ہے کہ حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں
میں
اقوام متحدہ کے
لیے انسانی امداد پہنچانا اب ناقابل عمل ہو گیا ہے۔ ادارے کے اہلکاروں کو حراست
میں لیا گیا ہے جبکہ اس کی عمارتوں پر بھی حوثیوں کا قبضہ ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے 73 اہلکار حوثیوں کی ناجائز قید
میں ہیں جن میں سے بعض 2021 سے قید کاٹ رہے ہیں۔ ادارے
کے پانچ سابق اہلکار اور غیر سرکاری تنظیموں، سول سوسائٹی کے اداروں
اور سفارت خانوں سے وابستہ درجنوں افراد بھی زیرحراست ہیں۔
عیسیٰ
یوف نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ
یمن کی مدد کے لیے آگے بڑھے۔ انہوں نے خوراک،
رہائش، صحت، پانی اور صفائی
ستھرائی سمیت ان تمام بنیادی ضروریات کے لیے فوری امداد کی اپیل کی ہے جو تشدد کے
باعث بے گھر ہونے والے لوگوں کو درکار ہیں۔ یمن میں حالیہ
کشیدگی سے پہلے بھی ملک کی چار کروڑ سے زیادہ آبادی میں سے تقریباً نصف کو انسانی
امداد کی ضرورت تھی۔ غذائی تحفظ کے مراحل کی مربوط درجہ بندی (آئی پی سی) کے
مطابق، حکومت کے زیرکنٹرول علاقوں میں نصف آبادی کو خوراک کی قلت کا سامنا
ہے۔ ملک میں اقوام متحدہ کے فنڈ برائے آبادی (یو این ایف پی
اے) نے ان گھرانوں کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار کیا ہے جن کی کفالت
خواتین کے ذمے ہے۔
ہنگامی
صورتحال نے ملک میں صحت کی ضروریات میں بھی مزید اضافہ کر دیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت
(ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ ملک پہلے ہی صحت کے کئی خطرات کا سامنا کر رہا
ہے، جن میں ہیضہ، خسرہ، ڈینگی، ڈفتھیریا
اور غذائی قلت شامل ہیں۔ ادارے کے ترجمان طارق جساریوچ نے
جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ لڑائی میں حالیہ اضافے سے پہلے کیے گئے ایک جائزے
کے مطابق، پانچ ہزار سے زیادہ طبی مراکز اور صحت کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں
میں سے صرف 60 ہی مکمل طور پر فعال تھے۔
یمن کے اندر
بے گھر ہونے والے افراد کے علاوہ ہزاروں افراد نے باب المندب آبنائے عبور کرکے
جبوتی میں پناہ لی ہے۔ ملک میں 'یو این ایچ سی آر' کی نمائندہ سینڈرین ڈیزامور نے
کہا ہے کہ لوگ انتہائی کم سامان کے ساتھ یہاں پہنچے ہیں جبکہ بعض اپنے خاندان کے
افراد کے بغیر آئے۔ کچھ لوگ دوسری مرتبہ یمن سے فرار
ہو کر آئے ہیں جو 2015 کے بحران میں بھی یمن چھوڑ چکے
تھے۔ بعض مواقع پر جبوتی کوسٹ گارڈ نے سمندر میں پھنس جانے والی کشتیوں کو ایندھن
فراہم کیا جبکہ دیگر کشتیوں کو کھینچ کر محفوظ مقام تک پہنچایا ہے۔ شام میں 'آئی
او ایم' کے سربراہ الیگزینڈر کوئسک نے بتایا ہے کہ
یمن سے آنے والے 3,000 پناہ گزینوں کی آمد ایک
ایسے ملک کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے جو پہلے ہی بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی
میزبانی کر رہا ہے۔