دنیا کے بیشترحصوں میں21سے 23ستمبر کے درمیان دن اور
رات کا دورانیہ برابر ہوجائے گا یعنی بارہ ‘بارہ گھنٹے ایسا اعتدال خریفی کے موقع
پر چونکہ سورج خط استوا کے اوپر ہونے سے ہوتا ہے تو دنیا میں لگ بھگ ہر جگہ سورج کی روشنی یکساں مقدار میں
پہنچتی ہے اس موقع پر دن اور رات کی لمبائی بھی لگ بھگ یکساں ہوتی ہے‘ایسا ہی مارچ
میں بھی ہوتا ہے جب اعتدال ربیعی کا آغاز ہوتا ہے.
فلکی علوم کے جریدے کے مطابق ہر سال 21 سے 24 ستمبر کے درمیان شمالی
نصف کرے میں موسم خزاں جبکہ جنوبی نصف کرے میں بہار کا آغاز ہوتا ہے
ویسے تو حالیہ برسوں میں موسم خزاں کا دورانیہ گھٹ گیا ہے مگر پھر بھی ہر سال 21
سے 24 ستمبر کے درمیان اعتدال خریفی کا آغاز ہوتا ہے یہ وہ موقع ہوتا ہے جب سورج
شمالی سے جنوبی نصف کرے کی جانب جاتے ہوئے خط استوا کے اوپر سے گزرتا ہے، جس کے
نتیجے میں پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر حصوں میں دن اور رات کا دورانیہ 12، 12
گھنٹے کا ہوجائے گا.
خیال رہے کہ خط استوا دنیا کے نقشے پر بالکل درمیان میں کھینچا گیا ایک فرضی
خط یا لکیر ہے جو ہماری دنیا کو شمال اور جنوب کی طرف دو برابر حصوں میں تقسیم
کرتا ہے اعتدال خریفی کے موقع پر سورج عین مشرق سے طلوع اور عین مغرب میں غروب
ہوگا اور اس وجہ سے یہ ایک اہم فلکیاتی ایونٹ ہے اعتدال خریفی سے پہلے سورج شمال
مشرق سے طلوع ہوتا ہے جبکہ اعتدال خریفی کے بعد جنوب مشرق سے طلوع ہوگا.
واضح رہے کہ ہماری زمین سورج کے گرد گھومتے ہوئے مدار میں ایک جانب
جھکتی ہے جس کے نتیجے میں سال میں کچھ مواقعوں پر سورج کی روشنی اور حرارت زیادہ
یا کم مقدار میں براہ راست ہمارے سیارے تک پہنچتی ہے اعتدال خریفی کے موقع پر
چونکہ سورج خط استوا کے اوپر ہوتا ہے تو دنیا میں لگ بھگ ہر جگہ سورج کی روشنی یکساں مقدار میں
پہنچتی ہے اس موقع پر دن اور رات کی لمبائی بھی لگ بھگ یکساں ہوتی ہے یعنی 12، 12
گھنٹے.
ایسا ہی مارچ میں بھی ہوتا ہے جب اعتدال ربیعی یا کا آغاز ہوتا ہے،
اس وقت سورج شمال کی طرف جاتے ہوئے خط استوا کے اوپر سے گزرتا ہے جون میں خط سرطان
کا آغاز ہوتا ہے جبکہ دسمبر میں راس الجدی کا آغاز ہوتا ہے. خط سرطان کا آغاز سال
کے طویل ترین دن سے ہوتا ہے جس کے بعد دن کا دورانیہ گھٹنے لگتا ہے جبکہ راس الجدی
کا آغاز سال کے مختصر ترین دن سے ہوتا ہے جس کے بعد دن کا دورانیہ بڑھنے لگتا ہے
دن اور رات کا دورانیہ مارچ اور ستمبر میں یکساں ہو جاتا ہے (مگر کچھ خطوں میں
ایسا نہیں ہوتا) لفظ
equinox کا مطلب ہی مساوی رات ہے. زمانہ
قدیم میں موسموں کا اندازہ اعتدال ربیعی، اعتدال خریفی، خط سرطان اور راس الجدی سے
لگایا جاتا تھا اس سال اعتدال خریفی کا آغاز 23 ستمبر کو ہوگا اس کے بعد شمالی نصف
کرے میں دن کا دورانیہ گھٹنے جبکہ رات کا بڑھنے لگے گا جبکہ جنوبی نصف کرے میں اس
سے الٹ ہوگا.