اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ نیپال میں آنے
والے تباہ کن سیلاب نے پورے کے پورے علاقوں کو تباہ کر دیا ہے اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہمالیہ
کے دوسرے علاقوں میں بھی ایسی تباہی رونما ہو سکتی ہے۔
بنیادی
ڈھانچے، خریداری اور امدادی و ترقیاتی منصوبوں کے انتظام سے متعلق خدمات فراہم
کرنے والے اقوام متحدہ کے
ادارے (یو این او پی ایس) کی علاقائی ڈائریکٹر سارا نیٹزرSara Netzer نے نیپال کے دورے سے واپسی کے بعد جنیوا میں
صحافیوں کو بتایا ہے کہ عموماً کسی قدرتی آفت کے دو سے تین ہفتے بعد ہی مقامی
آبادی اپنے گھر اور بستیاں دوبارہ تعمیر کرتے دکھائی دیتی ہے لیکن نیپال کے معاملے
میں ایسا ممکن نہیں۔
اگست
کے اواخر میں ایک گلیشیئر اچانک ٹوٹنے کے نتیجے میں آنے والے سیلاب اور لینڈ
سلائیڈنگ نے 1,200 سے زیادہ افراد کی جان لے لی۔
کئی مکانات اپنی بنیادوں سمیت بہہ کر 150 میٹر دور تک جا پہنچے۔ بے
گھر ہونے والے لوگ اب ان عارضی مراکز میں رہ رہے ہیں جنہیں نیپالی حکومت ہولڈنگ
سنٹر کہتی ہے۔ ادارے کی ٹیم نے ان میں سے بعض مراکز کا دورہ کیا جہاں صاف پانی اور بنیادی صفائی کی سہولیات فوری طور پر درکار
ہیں۔ بے گھر ہونے والے بہت سے افراد
فی الحال سکولوں کی عمارتوں میں مقیم ہیں جبکہ حکام چاہتے ہیں کہ ان سکولوں کو
دوبارہ کھولا جائے۔ اس لیے ہنگامی بنیادوں پر عارضی رہائش فراہم کرنا بھی ایک فوری
ضرورت ہے۔ بہت سے بچے اپنے والدین سے محروم ہو چکے ہیں جو انہی عارضی مراکز میں
مقیم ہیں۔
انہوں
نے بتایا کہ نیپال میں تعمیرنو کے امکانات زیادہ حوصلہ افزا دکھائی نہیں دیتے۔
دریا نے اپنا راستہ مکمل طور پر بدل لیا ہے۔ اس لیے یہ بھی واضح نہیں کہ ان
آبادیوں کے لیے دوبارہ تعمیر اور واپسی کے لیے کون سی جگہ محفوظ ہے۔ زمین ابھی تک
پوری طرح مستحکم نہیں ہوئی اس لیے تعمیر نو کے بارے میں سوچنا فی الحال ممکن نہیں۔
ادارے نے انجینیئرنگ جائزوں، بنیادی ڈھانچے سے متعلق خطرات کی نقشہ سازی اور پلوں
کی سلامتی کے تجزیے کے لیے مالی وسائل جاری کیے ہیں۔ دریاؤں اور ندی نالوں کے پار
آمدورفت بحال کرنا انتہائی اہم مسئلہ ہے کیونکہ 40 پلوں میں سے صرف ایک ہی باقی
رہا ہے۔ نتیجتاً کئی آبادیاں ایک دوسرے سے کٹ گئی ہیں۔
عالمی پروگرام برائے خوراک
(ڈبلیو ایف پی) کو زندگی بچانے والی امداد متاثرہ علاقوں تک پہنچانے کے لیے ہیلی
کاپٹروں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ سارا
نیٹزر نے کہا ہے کہ مجموعی طور پر یہ ایک ایسا بحران ہے جس کی انسانی قیمت بھی بے
حد زیادہ ہے اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کی قیمت بھی بہت بھاری ہے۔ مجموعی تباہی کی نوعیت ایسی ہے
جو انہوں نے نیپال میں 2015 کے تباہ کن زلزلے کے بعد بھی نہیں دیکھی تھی۔
'یو
این او پی ایس' کی ٹیم سے بات کرنے والے لوگوں نے تعمیرنو اور اس کے نتیجے میں
پیدا ہونے والے نفسیاتی اثرات کے بارے میں سخت تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے
کہ ان لوگوں نے اپنے پیاروں سمیت سب کچھ کھو دیا ہے اور بہت سے تاحال لاپتہ ہیں۔ سارا
نیٹرز نے کہا کہ نیپال میں جو کچھ دیکھنے میں آ رہا ہے وہ موسمیاتی تبدیلی کے
نتیجے میں ہمالیہ کے دوسرے علاقوں میں دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ آج یہ بحران نیپال کو
متاثر کر رہا ہے لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ آئندہ دنوں میں کسی اور آبادی یا
ملک کو بھی اسی طرح کے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔