دنیا ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں پانی
کی بے قاعدہ دستیابی بتدریج معمول بنتی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے موسمیاتی ادارے (ڈبلیو
ایم او) نے خبردار کیا ہے کہ دریاؤں کے بہاؤ، زیر زمین پانی
اور گلیشیئرؤں میں مسلسل اور دیرپا تبدیلیاں آ رہی
ہیں جس سے آبادیوں اور معیشتوں کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔ 'ڈبلیو
ایم او' کی سیکرٹری جنرل سیلیسٹ ساؤلو نے عالمی آبی وسائل کی تازہ ترین صورتحال سے
متعلق رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کبھی کبھار پیش آنے والی صورتحال نہیں
بلکہ ایسے حالات ایک دہائی سے دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
پورٹ کے مطابق، 2025 دنیا بھر میں دریاؤں کے بہاؤ میں کمی کے اعتبار سے گزشتہ
35 برس کا ایک خشک ترین سال تھا۔ اس دوران تقریباً 36 فیصد دریائی طاس ایسے رہے
میں پانی کا بہاؤ معمول سے کم دیکھا گیا۔ یہ مسلسل ساتواں سال تھا جب تاریخی طور پر معمول کے مطابق بہنے والے
دریا اکثریت میں نہیں تھے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی آبی چکر
پہلے کے مقابلے میں زیادہ بے قاعدہ اور غیر متوقع ہوتا جا رہا ہے۔
زیر
زمین پانی، گلیشیئر، برف، مٹی میں موجود
نمی، جھیلیں اور خشکی پر محفوظ میٹھے پانی
کے ذخائر خشک سالی اور خشک موسموں کے دوران حفاظتی
ڈھال کا کام کرتے ہیں۔ سیلیسٹ ساؤلو Celeste Saulo نے پانی کے سست رفتار سے تبدیل ہونے والے ان ذخائر کو کرہ ارض کا آبی
بچت کھاتہ قرار دیتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ ماضی میں یہ ذخائر خراب برسوں کے اثرات
کو جذب کر لیتے تھے جس کی وجہ سے ایک خشک موسم فوری طور پر پانی کے بحران میں تبدیل نہیں ہوتا تھا۔ اب یہ
ذخائر تیزی سے خالی ہو رہے ہیں۔ خشکی پر موجود پانی
کے مجموعی ذخیرے میں کمی کا سلسلہ 2014 سے 2016 کے
درمیان شروع ہوا جبکہ کئی خطوں میں زیرزمین پانی
کی سطح بھی مسلسل گر رہی ہے۔ تاہم چند حوصلہ افزا
علامات بھی سامنے آئی ہیں۔ جنوبی امریکا کے بعض علاقوں میں کئی برس تک جاری رہنے
والی شدید کمی کے بعد پانی
کے ذخیرے میں جزوی بحالی دیکھی گئی جبکہ وسطی اور
جنوبی افریقہ کی کئی بڑی جھیلوں میں پانی
کی سطح معمول سے کہیں زیادہ رہی۔
دنیا
کے ہر بڑے گلیشیائی خطے میں مسلسل چوتھے سال برف کا نقصان ریکارڈ
کیا گیا۔ ادارے میں پانی کی نقل و حرکت اور برفانی سطحوں کے مطالعہ سے متعلق شعبے کے
ڈائریکٹر وین جینکنسن Wayne Jenkinson نے بتایا ہے کہ گزشتہ سال دنیا کے تمام 19 گلیشیائی خطوں میں برف کی مقدار میں کمی آئی۔ وسطی
ایشیا، آئس لینڈ، روسی قطب شمالی اور مغربی کینیڈا و امریکا میں یہ ریکارڈ پر آنے والے تین بدترین برسوں میں شامل تھا۔
2025
میں گلیشیئروں نے تقریباً 408 گیگا ٹن برف کھو دی جبکہ 2023 سے 2025
کے دوران مجموعی نقصان تقریباً 1,400 گیگا ٹن تک پہنچ
گیا۔ یہ مقدار دنیا بھر میں ایک سال کے دوران نکالے جانے والے میٹھے پانی کے تقریباً ایک تہائی حصے کے برابر ہے۔ جینکنسن
Wayne Jenkinson نے خبردار کیا ہے کہ وسطی یورپ، قفقاز، مغربی کینیڈا
اور امریکا جیسے خطوں میں پانی
کی دستیابی غالباً اپنی آخری حد تک پہنچ چکی ہے جہاں
گلیشیئر نسبتاً چھوٹے ہیں۔ 'ڈبلیو ایم او' میں برفانی
سطحوں کی نگرانی و پیش گوئی کے شعبے کی سربراہ ناریل وین ڈر ویل نے کہا ہے کہ
مستقبل میں گلیشیئروں کے نقصان کو محدود کرنے کے لیے گرین ہاؤس
گیسوں کے اخراج میں کمی لانا ضروری ہے۔
رپورٹ
میں ہر مشاہدہ کی جانے والی تبدیلی کو صرف موسمیاتی تبدیلی سے منسوب نہیں کیا گیا۔
ادارے کے مطابق، آبی وسائل پر بڑھتا ہوا دباؤ اور قدرتی تغیرات بھی ان تبدیلیوں
میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جینکنسن کاکہنا ہے کہ ماضی کے موسمی اور آبی نمونے
اب پہلے کی طرح قابل اعتماد نہیں رہے۔ 30 سال پہلے جو صورتحال تھی آج وہ نہیں ہے۔ دنیا بھر کے ممالک کو ان تبدیلیوں کے لیے تیار ہونا ہو گا جو حقیقت
میں پہلے ہی رونما ہو چکی ہیں۔ گزشتہ پانچ برس کے دوران پانی
سے متعلق ایسے نصف واقعات ایشیا اور افریقہ میں پیش
آئے لیکن اس کے باوجود پانی کی نگرانی
اور مشاہدے کے حوالے سے یہی خطے سب سے پیچھے ہیں۔
پانچ
سال قبل 'ڈبلیو ایم او' کی جانب سے یہ رپورٹ جاری کرنے کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد پانی کی نگرانی
میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اب 52 ممالک دریائی بہاؤ
کے 3,100 سے زیادہ مراکز سے معلومات فراہم کر رہے ہیں جبکہ پہلی رپورٹ کے وقت صرف
سات ممالک 14 مراکز سے یہ معلومات دیتے تھے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے
رکن ممالک تیزی سے بدلتے آبی حالات کے مطابق خود کو ڈھال رہے ہیں، بہتر نگرانی،
معلومات کا تبادلہ اور بروقت انتباہی نظام بھی مزید اہم ہوتے جائیں گے۔ حال ہی میں چین
اور نیپال میں آنے والا تباہ کن سیلاب اس کی
واضح مثال ہے۔ اس واقعے میں چٹانوں اور گلیشیئر کے
ٹوٹنے یا سرکنے جیسے عوامل شامل تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے خطرات کی پیشگی
نشاندہی کرنا کس قدر مشکل ہو سکتا ہے۔