امریکا کی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی کوششوں سے یوکرین کے روسی زیر
قبضہ قصبے اولیشکی Oleshkyمیں عارضی جنگ
بندی پر اتفاق ہو گیا ہے جسے روس اور یوکرین دونوں نے سراہا ہے۔ جمعرات کو شروع ہونے والے اس آپریشن کا مقصد 2022
سے جنگ کے اندر پھنسے ہوئے قصبے میں خوراک اور ادویات پہنچانا اور سینکڑوں شہریوں
کا انخلا ممکن بنانا ہے۔ روس
کی انسانی حقوق کمشنر یانا لانتراتووا Yana Lantratovaنے
کہا کہ وہ امریکی قدامت پسند چینل نیوز میکس کے چار صحافیوں کو علاقے میں لے جا
رہی ہیں جبکہ ان کے یوکرینی ہم منصب دمیتر و لبینٹس Dmytro
Lubinetsبھی اولیشکی Oleshky
روانہ ہو رہے ہیں۔ صدر
ولادیمیر پیوٹن نے ماسکو میں ایک اجلاس میں کہا کہ امریکا کی خاتون اول کی حمایت
سے یہ امدادی سامان جمعرات اور جمعہ کو شہریوں تک پہنچنا شروع ہو جائے گا۔ دوسری جانب یوکرینی عہدیدار لبینٹس Dmytro
Lubinetsنے بھی اس انسانی مشن اور اولیشکی میں شہریوں کی
مدد کے لیے ذاتی طور پر وقت اور توجہ دینے پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔ وائٹ ہاؤس کے
مطابق اولیشکی جنگ بندی میلانیا ٹرمپ کی کوششوں سے ممکن ہوئی۔
اولیشکی میں ریلیف کی اس کوشش کے باوجود جنگ میں وسیع ریلیف کا تاثر
جلد ہی ختم ہو گیا جب مقامی حکام کے مطابق یوکرینی شہر دنیپرو کے مرکزی اسٹیشن پر
ایک مسافر ٹرین پر ڈرون حملے میں 13 افراد ہلاک ہو گئے جہاں کوئی جنگ بندی نافذ
نہیں تھی۔ ریاستی ریل کمپنی
اوکرزالیزنیتسیا Ukrzaliznytsia نے بتایا کہ ایک جیٹ سے
چلنے والے ڈرون نے اس پلیٹ فارم کو نشانہ بنایا جہاں ایک مسافر ٹرین قریبی زاپوریژیا
Zaporizhzhia کے لیے روانہ ہونے والی تھی۔ اولیشکی
اور وسیع خیرسون ریجنKherson Region پر لاگو یہ جنگ بندی
اتوار تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ جنگ سے قبل 24,000 آبادی والے اس قصبے میں اب
تقریباً 1,500 افراد کھنڈرات میں رہنے پر مجبور ہیں۔
روس کے ترجمان دمتری پیسکوف Dmitry Peskovکے
حوالے سے انٹرفیکس نے بتایا کہ وہاں بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام جاری ہے اور ہمیں
امید ہے کہ آج یا کل رہائشی محفوظ طریقے سے انسانی امداد حاصل کر سکیں گے اور جو
لوگ نکلنا چاہتے ہیں وہ نکل سکیں گے۔ یوکرین
طویل عرصے سے روس پر امداد روکنے اور لوگوں کو باہر نہ جانے دینے کا الزام لگاتا
رہا ہے جبکہ روس کا کہنا ہے کہ راستوں پر یوکرینی بارودی سرنگیں اور گولہ باری
امداد میں رکاوٹ ہیں۔ رپورٹس
کے مطابق نکلنے کے خواہشمند افراد کے لیے راستہ روسی زیر کنٹرول کریمیا وہاں سے
جنوبی روس اور پھر بیلاروس کے راستے یوکرین میں داخلہ متوقع ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اگلے ماہ
ابوظہبی میں امریکا کی ثالثی میں امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے والے ہیں، حالانکہ
دونوں فریق جنگ کے خاتمے کی شرائط پر بہت دور ہیں۔