روسی وزارت تعلیم کے مطابق روس اور شمالی کوریا
تعلیم کے شعبے میں تعاون مزید گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ روسی وزیر تعلیم سرگئی
کراوتسوف Sergei Kravtsovنے دوطرفہ تعلقات اور تعلیمی تعاون کو مضبوط
بنانے کی کوششوں کے سلسلے میں شمالی کوریا کا دورہ کیا۔
وزارت کے بیان کے مطابق پیانگ یانگ پیلس آف
کانگریسز میں کراوتسوف Sergei Kravtsovکی شمالی کوریا کے وزیر تعلیم لی یونگ چول Ri Yong Cholسے دوطرفہ ملاقات ہوئی، جس میں کئی اہم تعلیمی
امور پر بات چیت ہوئی۔ ان میں شمالی کوریا میں روسی زبان کی تدریس، تربیت اور
پرورش کے تجربات کا تبادلہ اور مصنوعی ذہانت شامل تھے۔ فریقین نے تعلیم کے شعبے
میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے ارادے کی تصدیق کی۔ کراوتسوف Sergei Kravtsovنے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون
فعال طور پر ترقی کر رہا ہے۔ روسی وزیر نے پیانگ یانگ یونیورسٹی آف ایجوکیشن نمبر
2 کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے روسی زبان میں اوپن ایجوکیشن اور روسی زبان کی
تدریس کے مرکز کا افتتاح کیا۔
شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی
این اے کے مطابق وزرائے تعلیم کی بات چیت 19 اکتوبر کو ہوئی، جس میں شمالی کوریا
کے نائب وزیر تعلیم ری چانگ سک Ri Chang-sik اور شمالی کوریا میں روس
کے سفیر آندرے پودیلیشیف Andrei Podelyshevبھی شریک تھے۔ کراوتسوف Sergei Kravtsovکی قیادت میں روسی وزارت تعلیم کا وفد اس سے ایک
روز قبل پیانگ یانگ پہنچا تھا۔ وفد نے بلاگووشچنسک اسٹیٹ پیڈاگوجیکل یونیورسٹی Blagoveshchensk
State Pedagogical Universityکے ساتھ روسی تعلیمی مرکز کے قیام اور اس کے انتظام سے متعلق ضمنی
معاہدے پر بھی دستخط کیے۔ کوریا ٹائمز کے مطابق اس معاہدے کے تحت یہ مرکز پیانگ
یانگ یونیورسٹی آف ایجوکیشن نمبر 2 اور روسی جامعہ کی شراکت داری سے کام کرے گا، جبکہ
دونوں وزرا نے تعلیمی کامیابیوں اور تجربات کا تبادلہ کر کے باہمی تعاون مزید
مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کیا۔