امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اعلان کیا
ہے کہ امریکا نومبر میں ہونے والے وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات
سے قبل ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی یا حملہ نہیں کرے گا۔ ‘الجزیرہ’ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی نائب ترجمان اینا کیلی نے پریس بریفنگ کے دوران ایرانی قیادت کو نشانہ
بنانے سے متعلق صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کی مبینہ گفتگو
کے سوال پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے بقول ایران اس وقت معاشی اور عسکری
دونوں لحاظ سے انتہائی کمزور حالت میں ہے۔ نائب ترجمان نے دعویٰ کیا کہ آبنائے
ہرمز میں ایرانی بحری سرگرمیوں کے باوجود امریکی تحفظ میں تیل کی عالمی ترسیل
ریکارڈ سطح پر جاری ہے۔
ترجمان نے واضح طور پر کہا کہ امریکا نومبر کے مڈ ٹرم الیکشن سے پہلے
ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے بھی اشارہ دیا تھا کہ وہ
انتخابات سے قبل جنگ سے گریز کریں گے، تاہم اس کے بعد ممکنہ بھرپور عسکری اقدام کا
آپشن موجود رہے گا۔ وائٹ ہاؤس کے اس بیان کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے
اس دعوے کی نفی ہو گئی ہے جس میں انہوں نے ایرانی قیادت کو ختم کرنے کے لیے
واشنگٹن کی فوری حمایت کا دعویٰ کیا تھا۔