مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور
علاقائی سلامتی کو لاحق خطرات کے پیش نظر امریکہ نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور ایران سمیت 12 ممالک میں موجود اپنے شہریوں
کیلئے نئے سکیورٹی الرٹ جاری کردیئے، جن میں خبردار کیا گیا ہے کہ خطے میں جاری
فوجی تنازع اچانک مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، فضائی حدود کی بندش، پروازوں کی
منسوخی اور سفر میں غیر متوقع رکاوٹوں کا بھی خدشہ ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ اور مختلف ممالک میں قائم امریکی سفارتی مشنز کی جانب سے جاری کیے
گئے سکیورٹی انتباہات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں سلامتی کی صورتحال پیچیدہ اور تیزی
سے تبدیل ہونے والی ہے، اس لیے امریکی شہریوں کو غیر معمولی احتیاط اور مسلسل
چوکنا رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز نے اپنی 19 اکتوبر کو شائع ہونے والی
رپورٹ میں بتایا کہ تازہ انتباہات سعودی عرب، متحدہ عرب امارات،
کویت، اردن، بحرین،
عمان، ایران، قطر، عراق، لبنان، یمن اور اسرائیل میں موجود امریکی شہریوں کیلئے
جاری کیے گئے ہیں۔
امریکہ نے کن 12 ممالک کیلئے سیکیورٹی الرٹ جاری کیے؟
امریکی سفارتی مشنز کے تازہ انتباہات میں خلیج اور
مشرق وسطیٰ کے 12 ممالک شامل ہیں، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان،
بحرین، کویت، ایران، عراق، اردن، لبنان، اسرائیل اور یمن شامل ہیں، ان ممالک میں
موجود امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے حالات پر نظر رکھیں،
مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کیلئے تیار
رہیں۔امریکی حکام نے کہا ہے کہ موجودہ علاقائی صورتحال میں فوجی کشیدگی میں اچانک
اضافہ ممکن ہے، جس کے نتیجے میں سفر اور روزمرہ سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں، تاہم
تمام ممالک میں خطرات کی نوعیت اور شدت یکساں نہیں ہے، اس لیے شہریوں کو متعلقہ
ملک کیلئے جاری کردہ مخصوص ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
پروازوں کی منسوخی اور فضائی حدود کی بندش کا خدشہ
تازہ سیکیورٹی الرٹس میں خاص طور پر فضائی سفر میں
ممکنہ رکاوٹوں سے خبردار کیا گیا ہے، امریکی حکام نے کہا کہ خطے میں فوجی
صورتحال اچانک تبدیل ہونے کی صورت میں بعض ممالک کی فضائی حدود عارضی طور پر بند
ہو سکتی ہیں، جبکہ بین الاقوامی فضائی کمپنیاں پروازیں منسوخ، ملتوی یا ان کے
راستے تبدیل کر سکتی ہیں۔امریکی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سفر سے پہلے
متعلقہ فضائی کمپنی سے اپنی پرواز کی تصدیق کریں اور ہوائی اڈوں کے آپریشن سے
متعلق تازہ معلومات حاصل کرتے رہیں، بعض فضائی کمپنیوں نے خطے میں پہلے سے متاثرہ
پروازوں کے شیڈول کی مکمل بحالی مؤخر کر رکھی ہے، جبکہ کچھ روٹس پر پروازیں منسوخ
بھی کی گئی ہیں، اس صورتحال کے باعث مشرق وسطیٰ سے دوسرے ممالک کا سفر کرنے والے
مسافروں کو بھی احتیاط کی ضرورت ہے، کیونکہ فضائی راستوں میں اچانک تبدیلی بین
الاقوامی پروازوں کو متاثر کر سکتی ہے۔
متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کیلئے خصوصی انتباہ
امریکی محکمہ خارجہ نے متحدہ عرب امارات کیلئے
اپنے موجودہ سفری انتباہ میں دہشت گردی اور مسلح تنازع کے خطرات کی نشاندہی کی ہے،
اس ضمن میں امریکی حکام نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث متحدہ عرب
امارات میں ڈرون اور میزائل حملوں کا خطرہ برقرار ہے، جبکہ امریکی مفادات سے
وابستہ مقامات کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ امریکہ نے اپنے شہریوں کو متحدہ عرب
امارات کے سفر پر دوبارہ غور کرنے کا مشورہ دے رکھا ہے، اسی طرح سعودی عرب کیلئے
12 اکتوبر کو جاری کردہ سفری ہدایات میں ایران اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی
جانب سے امریکی مفادات کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنائے جانے کے خطرات کا
ذکر کیا گیا، امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کیلئے بھی تیسرے درجے کا سفری
انتباہ برقرار رکھا ہے، جس کے تحت امریکی شہریوں کو سفر کے فیصلے پر دوبارہ غور
کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
ایران اور حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں امریکی مفادات کو خطرات
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری
کشیدگی کے دوران ایران اور اس کی حمایت کرنے والے مسلح گروہوں کی جانب سے امریکی
مفادات کو نشانہ بنائے جانے کا خطرہ موجود ہے، امریکی سفارتی انتباہات میں کہا گیا
ہے کہ خطے میں فوجی کارروائیوں کے اثرات متعلقہ ممالک کی سرحدوں سے باہر بھی پہنچ
سکتے ہیں۔ خصوصاً یمن میں سرگرم حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر کیے گئے حملوں کا
حوالہ دیتے ہوئے امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ شہری ہوائی اڈوں اور اہم بنیادی
ڈھانچے پر حملے نہ صرف جانی نقصان بلکہ فضائی سفر میں شدید رکاوٹوں کا سبب بھی بن
سکتے ہیں، اس تناظر میں امریکی شہریوں کو سفارتی تنصیبات، امریکی اداروں اور
امریکہ سے وابستہ مقامات کے اردگرد غیر معمولی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
عراق، لبنان، ایران اور یمن کیلئے الگ ہدایات
عراق میں امریکی سفارتی مشن نے اپنے شہریوں کو
بغداد، اربیل، بصرہ اور سلیمانیہ کے ہوائی اڈوں سے متعلق تازہ معلومات حاصل کرنے
کی ہدایت کی ہے، امریکی سفارت خانے کے مطابق بغداد میں معمول کی امریکی شہری خدمات
جاری ہیں۔ جب کہ لبنان میں امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو بیروت کے
رفیق حریری بین الاقوامی ہوائی اڈے کی صورتحال پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا اور
بتایا ہے کہ معمول کی قونصلر اور ویزا خدمات جاری ہیں۔
ایران کیلئے جاری انتباہ میں امریکی شہریوں کو ملک
کا سفر نہ کرنے اور وہاں پہلے سے موجود امریکیوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت دہرائی
گئی ہے، تاہم یمن کے معاملے میں صورتحال زیادہ سنگین ہے، امریکی محکمہ خارجہ نے
واضح کیا ہے کہ وہاں سکیورٹی خطرات کے باعث امریکی حکومت اپنے شہریوں کو ہنگامی قونصلر
خدمات فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، واضح رہے کہ صنعا میں امریکی سفارت خانے
کی کارروائیاں فروری 2015ء سے معطل ہیں۔
کیا امریکا کو کسی بڑے حملے کی اطلاع ملی ہے؟
امریکی سفارتی مشنز کی جانب سے ایک ہی روز متعدد
ممالک کیلئے سیکیورٹی انتباہات جاری ہونے سے علاقائی صورتحال کی سنگینی ظاہر ہوتی
ہے، تاہم جاری کردہ اعلامیوں میں کسی مخصوص تاریخ، مقام یا ملک میں نئے حملے کی
یقینی پیش گوئی نہیں کی گئی۔ اسی طرح ان انتباہات کا مطلب یہ بھی نہیں کہ تمام
12 ممالک میں فضائی حدود بند ہو چکی ہیں یا بین الاقوامی پروازیں معطل کر دی گئی
ہیں، امریکی حکام نے ممکنہ خطرات سے پیشگی آگاہ کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو ہنگامی
صورتحال کیلئے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔
امریکی شہریوں کو کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی؟
امریکی سفارتی مشنز نے اپنے شہریوں کو بڑے
اجتماعات اور مظاہروں سے دور رہنے، مقامی ذرائع ابلاغ سے تازہ معلومات حاصل کرنے
اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری والے علاقوں میں غیر ضروری نقل و حرکت سے
گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ شہریوں کو موبائل فون چارج رکھنے، اپنی نقل و حرکت میں
احتیاط برتنے اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے،
امریکی محکمہ خارجہ نے شہریوں کو اسمارٹ ٹریولر انرولمنٹ پروگرام (STEP) میں رجسٹریشن کی ہدایت کی ہے تاکہ انہیں متعلقہ
امریکی سفارت خانے کی جانب سے سیکیورٹی صورتحال کے بارے میں تازہ اطلاعات موصول
ہوتی رہیں۔
خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کیلئے کیا صورتحال ہے؟
سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، عمان، بحرین
اور کویت میں لاکھوں پاکستانی ملازمت اور کاروبار کے سلسلے میں مقیم ہیں، امریکی
انتباہات بنیادی طور پر امریکی شہریوں کیلئے جاری کیے گئے ہیں اور ان کا مطلب یہ
نہیں کہ ان ممالک میں مقیم پاکستانیوں کیلئے کوئی نیا سفری حکم جاری ہوا ہے۔ تاہم
خطے میں فضائی سفر سے متعلق ممکنہ رکاوٹیں پاکستانی مسافروں کو بھی متاثر کر سکتی
ہیں، خصوصاً ان افراد کو جو دبئی، ابوظہبی، دوحہ، ریاض یا دیگر خلیجی ہوائی اڈوں
کے ذریعے پاکستان اور دوسرے ممالک کا سفر کرتے ہیں، ایسے مسافروں کیلئے ضروری ہے
کہ وہ سفر سے قبل اپنی فضائی کمپنی سے پرواز کے شیڈول کی تصدیق کریں اور متعلقہ
ملک کے سرکاری اعلانات پر نظر رکھیں۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار
واضح رہے کہ رواں سال فروری میں امریکہ اور
اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں غیر
معمولی اضافہ ہوا تھا، اس کے بعد ایران اور اس کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کی
کارروائیوں، خلیجی ممالک میں میزائل اور ڈرون حملوں اور اہم بحری راستوں کو لاحق
خطرات کے باعث خطے کی سیکیورٹی صورتحال مسلسل بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی ہوئی
ہے۔
حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب پر حوثیوں کے
حملوں اور یمن میں فوجی سرگرمیوں میں اضافے نے بھی علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات
بڑھا دیئے ہیں، ایسی صورتحال میں امریکی سفارتی مشنز کی جانب سے بیک وقت 12 ممالک
کیلئے سیکیورٹی الرٹس جاری ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن خطے میں
مزید غیر متوقع پیشرفت کے امکان کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے، تاہم فی الحال ان
انتباہات کو کسی نئی جنگ کے آغاز یا مخصوص فوجی کارروائی کے باضابطہ اعلان کے طور
پر نہیں دیکھا جا سکتا۔