اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ ’ایل نینو‘ موسمیاتی مظہر
اپنی تاریخ کی غیر معمولی شدت کے ساتھ عروج پر پہنچ رہا ہے، جس سے دنیا بھر میں
تباہ کن اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی اداروں نے اس انسانی اور معاشی بحران
سے نمٹنے کے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ جنیوا میں ایک
اہم پریس کانفرنس کے دوران عالمی محکمہ موسمیات (ڈبلیو ایم او) کی سربراہ سیلسے
ساولو اور اقوام متحدہ کے امدادی چیف ٹام فلیچر نے مشترکہ طور پر شدید تشویش کا
اظہار کیا۔
سیلسے ساولو نے بتایا کہ موجودہ ’ایل نینو‘ اتنی غیر معمولی
طاقت کا حامل ہے کہ یہ پچھلی 4 دہائیوں کے تمام نگرانی کے چارٹس سے باہر ہو چکا
ہے۔ یہ دسمبر میں عروج پر پہنچے گا، لیکن اس کے انتہائی درجہ حرارت، سیلابوں اور
قحط سالی کے انسانی اثرات 2027 اور اس کے بعد تک برقرار رہیں گے۔
سمندری درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ
ڈبلیو ایم او کی تازہ
ترین عالمی موسمیاتی رپورٹ کے مطابق استوائی بحر الکاہل کے خطے میں سمندر کی سطح
کا درجہ حرارت نومبر سے جنوری کے دوران اوسط سے 3.8 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا
ہے۔ یہ مشاہدات شروع ہونے کے بعد سے اب تک کی سب سے بلند سہ ماہی پیمائش
ہوگی، جو 2015 سے 2016 کے دوران قائم ہونے والے 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ کے پرانے
ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دے گی۔
یہ قدرتی موسمیاتی عمل
عام طور پر ہر 2 سے 7 سال بعد ہوتا ہے اور 9 سے 12 ماہ تک جاری رہتا ہے، جو انسان
ساختہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے
’ایل نینو‘ نے سال 2023 کو دوسرا گرم ترین اور 2024 کو تاریخ کا گرم ترین سال
بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
’ویکنگ بال‘ اور دنیا کے مختلف خطوں
پر خطرات
امداد کے سربراہ ٹام
فلیچر نے اس مظہر کو معیشت اور انسانیت کے لیے ایک ’ویکنگ بال‘ قرار دیا ہے جو
لاطینی امریکا، مشرقی و جنوبی افریقہ، ایشیا اور بحر الکاہل کے خطوں کو بری طرح
متاثر کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے طویل مدتی اثرات مہینوں اور
سالوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ صومالیہ، ایتھوپیا اور کینیا کو شدید بارشوں سے پہلے
فوری سپلائی کی ضرورت ہے۔
جنوبی افریقہ کو بیج اور لائیو سٹاک
درکار ہیں، وسطی امریکا کو روزگار میں مدد کی ضرورت ہے جبکہ ایشیا اور بحر الکاہل
کو خشک سالی، سیلاب اور طوفانوں کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ وسطی امریکا میں اس وقت
بھی جانور اور فصلیں شدید خشک سالی سے ہلاک ہو رہی ہیں۔
50 ملین افراد کو درپیش
خطرہ اور ہنگامی فنڈنگ
ٹام فلیچر نے تنبیہ کی کہ
تنازعات، نقل مکانی، ایندھن، کھاد اور خوراک کی بلند قیمتوں کے بحران کے اس دور
میں مزید شدت آنے سے دنیا بھر میں 50 ملین افراد کو شدید بھوک کا سامنا کرنا پڑ
سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگلے 2 ہفتے عمل کرنے کے لیے انتہائی
نازک ترین ہیں کیونکہ انسانی امداد کا نظام تنہا اس پیمانے کے خطرے سے نمٹنے کی
سکت نہیں رکھتا۔
اس خطرے سے قبل نمٹنے کے لیے فلیچر نے چاڈ، ایل سیلواڈور، ایتھوپیا،
صومالیہ اور جنوبی سوڈان سمیت 11 صف اول کے ممالک کی مدد کے لیے 50 ملین ڈالر جاری
کیے ہیں اور تمام ممالک، ترقیاتی بینکوں اور مالیاتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ
نقصانات ہونے سے پہلے مالیاتی وسائل حرکت میں لائے جائیں۔