Business
چائنہ نے 28 ارب ڈالر كا قرضہ واپس مانگ لیے
اگر پاکستان چین کا قرض واپس نہ کر سکا تو اسے اپنے معدنی ذخائر، ہوائی اڈے یا بندرگاہیں چین کے حوالے کرنا لازمی ہوگا۔
- Reading time
- 2 منٹ کا مطالعہ
- اشاعت
- 6 ستمبر، 2026، 5:20 PM

Business
اگر پاکستان چین کا قرض واپس نہ کر سکا تو اسے اپنے معدنی ذخائر، ہوائی اڈے یا بندرگاہیں چین کے حوالے کرنا لازمی ہوگا۔

اگر پاکستان چین کا قرض واپس نہ کر سکا تو اسے اپنے معدنی ذخائر، ہوائی اڈے یا بندرگاہیں چین کے حوالے کرنا لازمی ہوگا۔ ہمارے سرکاری اداروں نے چین کے کمرشل بینکوں سے 28 اعشاریہ ایک ارب ڈالر قرض لیا ہوا ہے، یہ پیسے رول اوور نہیں ہوں گے، واپس کرنے پڑیں گے، قرض واپس نہ کر سکے تو معدنی ذخائر اور کوئی ائیر پورٹ یا بندرگاہ ان کے حوالے کرنا پڑ سکتے ہیں۔
پاکستان کے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے معاہدوں میں قرضوں، سرمایہ کاری اور گرانٹس کی مختلف اقسام ہیں؛ انہیں ایک ہی قرض سمجھنا درست نہیں۔ پاکستانی حکومت نے بھی واضح کیا ہے کہ کئی توانائی منصوبوں کا قرض متعلقہ نجی کمپنیوں کی ذمہ داری ہے۔ گوادر پورٹ کا معاملہ قرض کی عدم ادائیگی کے بدلے ملکیت منتقل کرنے کا نہیں ہے۔ سرکاری وضاحت کے مطابق اس کا منصوبہ BOT (Build-Operate-Transfer) ماڈل پر ہے۔ البتہ یہ ضرور اہم ہے کہ پاکستان کے بیرونی قرض اور چینی قرضوں کی شرائط، ضمانتیں اور منصوبوں کی آمدنی کے حقوق کو الگ الگ دیکھا جائے۔ مالی مشکلات کی صورت میں قرض کی ری اسٹرکچرنگ، ادائیگی مؤخر ہونا یا مخصوص اثاثوں/آمدنی پر تجارتی حقوق جیسے انتظامات ممکن ہو سکتے ہیں، مگر یہ خود بخود قومی ملکیت چین کو منتقل ہونے کے مترادف نہیں۔