تقریباً 26 کروڑ آبادی والے پاکستان میں یہ بحث ایک مرتبہ پھر زور
پکڑ رہی ہے کہ کیا موجودہ چار صوبوں پر مشتمل انتظامی نظام مؤثر حکمرانی اور عوام
کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کافی ہے یا ملک کو نئے صوبوں اور زیادہ
بااختیار مقامی حکومتوں کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے حال ہی میں انتظامی اصلاحات
پر قومی سیاسی مباحثے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 12 سے 15 نئے صوبے قائم
کرنے یا متبادل طور پر 160 بااختیار ضلعی حکومتیں تشکیل دینے پر غور کیا جانا
چاہیے۔ ان کے مطابق موجودہ نظام صحت، تعلیم اور دیگر سماجی شعبوں میں مطلوبہ نتائج نہیں دے
سکا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی، جنہوں نے جولائی میں انتظامی نظام کو ازسرنو
ترتیب دینے کی بحث چھیڑی تھی، کا کہنا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس بنائے جائیں تو یہ
کام عوامی حمایت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف بھی اختیارات کو نچلی سطح تک
منتقل کرنے اور زیادہ
decentralization کی
حمایت کر چکے ہیں۔ تاہم حکومت نے ابھی نئے صوبے بنانے کا کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں
کیا اور حکمران اتحاد کے اندر بھی اس بارے میں اتفاق رائے موجود نہیں کہ اصلاحات
کی نوعیت کیا ہو اور انہیں کب اور کیسے نافذ کیا جائے۔ سابق وزیر خزانہ اور ماہر
اقتصادیات مفتاح اسماعیل نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا کہ چھوٹے صوبے بااختیار
مقامی حکومتوں کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ ان کے مطابق صوبوں کی تعداد بڑھا بھی دی
جائے تو مؤثر حکمرانی اور عوام تک خدمات پہنچانے کے لیے مضبوط بلدیاتی نظام پھر بھی ضروری ہوگا۔
اسلام آباد میں قائم سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ
پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر عابد قیوم سلہری بھی اس سے اتفاق کرتے
ہیں۔ ان کے مطابق مؤثر مقامی حکومتیں نہ ہوں تو ملک میں ایک صوبہ ہو یا 25، فیصلہ
سازی صوبائی سطح پر ہی مرتکز رہے گی۔ سلہری کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کی تجویز کا
جائزہ صرف انتظامی سہولت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس بات کو سامنے رکھ کر بھی لیا
جانا چاہیے کہ نئے سکریٹیریٹس، اسمبلیوں اور بیوروکریسی پر کتنی اضافی لاگت آئے
گی، مقامی سطح پر ٹیکس وصولی میں کیا بہتری ہوگی اور عوام کو انصاف اور بنیادی
خدمات زیادہ مؤثر انداز میں مل سکیں گی یا نہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی کے سیاسیات کے ماہر
محمد شعیب کے مطابق پاکستان کا ماضی بتاتا ہے کہ حکمرانی
اور عوامی خدمات کے اعتبار سے مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانا زیادہ مؤثر راستہ
ہو سکتا ہے۔ نئے صوبوں کا معاملہ صرف انتظامی نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی طاقت کی تقسیم سے بھی جڑا ہوا ہے۔ نئے صوبوں کا مطلب نئی حکومتیں اور
اسمبلیاں ہوں گی جبکہ وفاق میں سیاسی نمائندگی اور قومی وسائل کی تقسیم بھی متاثر
ہو سکتی ہے۔ صوبائی سرحدوں میں تبدیلی سے پانی، ٹیکسوں اور قدرتی وسائل کی تقسیم جیسے پرانے
تنازعات بھی دوبارہ سامنے آ سکتے ہیں۔
اس حوالے سے سیاسی مزاحمت پہلے ہی دکھائی دے رہی ہے۔ سندھ اسمبلی نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی مخالفت کر چکی ہے جبکہ مختلف
سیاسی جماعتیں موجودہ صوبائی حدود تقسیم کرنے کے خلاف خبردار کر رہی ہیں۔ مفتاح
اسماعیل کے مطابق خاص طور پر سندھ کی صوبائی حدود میں تبدیلی ایک خطرناک راستہ ہو سکتی ہے۔ ان کے خیال
میں موجودہ صوبوں کو تقسیم کرنے کے بجائے ان کے اندر مقامی حکومتوں کو حقیقی
اختیارات دینا زیادہ محفوظ اور مؤثر حل ہوگا۔ محمد شعیب بھی خبردار کرتے ہیں کہ
نئے صوبوں کی تشکیل میں مالی وسائل، پانی، ملازمتوں اور علاقائی مراعات کی تقسیم طویل اور
مشکل سیاسی مذاکرات کا باعث بن سکتی ہے۔ اگر یہ عمل
ادھورا رہ گیا تو موجودہ نسلی اور علاقائی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ یوں پاکستان میں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ
ملک میں چار صوبے رہیں یا 12 سے 15 صوبے بنائے جائیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ
اختیارات، وسائل اور جواب دہی کو عوام کے قریب کیسے لایا جائے، اور کیا انتظامی
نقشہ تبدیل کیے بغیر بااختیار مقامی حکومتوں کے ذریعے یہی مقصد زیادہ مؤثر انداز
میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔