غزہ میں اسرائیلی
فوج کے ہاتھوں فلسطینی شہریوں کے قتل عام پر مبنی دو آسکر ایوارڈ یافتہ اسرائیلی
فلم سازوں کی تیار کردہ ایک نئی دستاویزی فلم وینس فلم فیسٹیول میں بے حد سراہا گیا
اور اس کے لیےمسلسل 25 منٹ تک تالیاں بجتی رہیں۔
اے ایف پی کے
مطابق تماشائیوں نے فلم کی نمائش کے بعد فلمسازوں یووال ابراہم Yuval
Abraham اور ریچل سزور Rachel Szorکے لیے مسلسل 25 منٹ تالیاں بجائیں جو
وینس میں نیا ریکارڈ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ سال غزہ پر بنائی گئی ایک اور
فلم پر 23 منٹ تالیاں بجائی گئی تھیں۔اپنی فلم ’نازا‘ میں ابراہم Yuval
Abraham اور سزور Rachel Szorنے 24 مختلف اسرائیلی فوجی یا انٹیلی
جنس اہلکاروں کی گفتگو شامل کی جنہوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔
ابراہم Rachel
Szorنے
بتایا کہ ہم نے صرف یہ چاہا کہ فوجی اور افسران خود بتائیں کہ انہوں نے کیا کیا،
مقصد بہت سادہ تھا، ہم زیادہ سے زیادہ تفصیل سے سننا چاہتے تھے کہ غزہ میں قتل کا
نظام کیسے دکھتا اور کیسے چلتا تھا۔یہ 80 منٹ کی فلم دیکھنے والوں کو حیران کر گئی
کیونکہ انٹرویو دینے والوں نے بتایا کہ انہیں ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی ’قتل کی فیکٹری‘
یا ’مہلک وڈیو گیم‘ میں کام کر رہے ہوں۔’نازا‘ NAZAکا نام اسرائیلی انٹیلی جنس کے اس
اصطلاحی کوڈ سے لیا گیا ہے جو کسی فضائی حملے میں متوقع شہری ہلاکتوں کو ظاہر کرتا
ہے۔
فلم میگزین سکرین
نے اسے انتہائی ضروری اور ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی قرار دیا جبکہ ہالی و ڈ
رپورٹر نے لکھا کہ یہ اسرائیلی فوج کے خلاف غصہ، بے عزتی اور گہری نفرت کو ابھارتی
ہے۔غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اسرائیلی بمباری میں تقریباً 73
ہزار پانچ سو فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 74 ہزار سے زائد زخمی ہوئے جنہیں دنیا
معتبر اعداد و شمار مانتی ہے۔ یہ حملے 7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی عسکریت پسندوں کے
اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئے تھے جن میں 12 سو سےزیادہ اسرائیلی ہلاک ہوئے۔
فلم ’نازا‘ NAZAمیں شامل مرد و خواتین جن کی آوازیں
اور چہرے ڈیجیٹل طور پر بدلے گئے، ایک اے آئی نظام ’لیوینڈر‘ کی تفصیلات بیان کرتے
ہیں جو لوگوں کو قتل کے لیے شناخت کرنے میں استعمال ہوا۔لیوینڈر Lavenderغزہ کی ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک کی
نگرانی سے حاصل شدہ ڈیٹا استعمال کرتا تھا تاکہ فون کالز، حرکات اور روابط کی بنیاد
پر اہداف منتخب کیے جا سکیں۔ایک انٹرویو دینے والے نے کہا کہ سسٹم کے پیرامیٹرز
اتنے پیچیدہ ہیں کہ سمجھنا مشکل ہے۔
دیگر افراد نے
گھروں کی منظم تباہی، جنگی و انسانی قوانین کی خلاف ورزی اور فلسطینیوں کے خلاف
نفرت کے عمومی ماحول کو بیان کیا۔ایک گواہ نے کہا کہ یہ بالکل وڈیو گیم کی طرح ہے
کیونکہ سب کچھ دور سے کیا جاتا ہے۔ تقریباً تین سالہ تحقیق کے نتیجے میں
بننے والی فلم ’نازا‘ اس سال وینس فلم فیسٹیول میں مقابلے میں شامل واحد دستاویزی
فلم ہے جو ہفتے کو اختتام پذیر ہوگا۔ ابراہم Yuval Abraham
نے بتایا کہ ہم میں سے جو اسرائیل اور فلسطین کے اندر تبدیلی کے
لیے لڑ رہے ہیں ہمیں اس کی ضرورت ہے، جب آپ غزہ کی صورتحال پر کچھ نہیں کرتے تو آپ
انسانی حقوق اور سیاسی حل کے حامیوں کو کمزور کر رہے ہیں ۔