بلوم برگ نے رپورٹ دی کہ سعودی عرب نے حوثی حملوں کی
وجہ سے برطانیہ سے فوجی امداد طلب کی ہے اور اپنی اسٹریٹجک تنصیبات پر جاری حملوں
پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اشاعت کے مطابق برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم Andy
Burnham یمن
کے حوثی باغیوں کے حملوں کا مقابلہ کرنے میں سعودی عرب کی مدد پر غور کر رہے ہیں،
جبکہ برطانوی حکام کو تشویش ہے کہ تنازع میں شدت آنے سے معاشی اثرات مزید بگڑ سکتے
ہیں۔ صحافیوں کے مطابق، ریاض نے بحیرہ احمر کے ساحل کے ساتھ ساتھ باب المندب
آبنائے کی جانب گروپ کی پیش قدمی کا مقابلہ کرنے کے لیے لندن سے باضابطہ طور پر
آپریشنل مدد طلب کی ہے۔ سعودی حکام برطانیہ کی مدد پر اپنے اہم تیل انفراسٹرکچر کو
فضائی حملوں سے بچانے کے لیے انحصار کر رہے ہیں، تاہم برطانوی حکومت نے ابھی تک اس
درخواست کا باضابطہ جواب نہیں دیا۔
موجودہ بحران نے نئی کابینہ کے پہلے بجٹ سے قبل برنہم Andy
Burnham کے
لیے ایک سنگین خارجہ پالیسی اور معاشی مخمصہ کھڑا کر دیا ہے۔ ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن
پر حملوں اور اس کی معطلی کے بعد، عالمی برینٹ خام تیل کی قیمتیں تقریباً 110 ڈالر
فی بیرل تک پہنچ گئیں، اور برطانوی حکام نے خفیہ طور پر وزیراعظم کو خبردار کیا کہ
باب المندب آبنائے پر کنٹرول کھونے سے عالمی جہاز رانی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں
گے اور افراطِ زر میں شدید اضافہ ہو گا۔ 10 ستمبر کو حوثیوں کے زیرِ کنٹرول سبا Saba نیوز ایجنسی نے رپورٹ دی
تھی کہ سعودی عرب کے طیاروں نے جنوب مغربی یمن کے صوبہ تعز Taiz کے شہر مخا Mocha میں بین الاقوامی ہوائی اڈے پر دو فضائی حملے کیے۔ صوبہ تعز Taiz میں مجموعی طور پر 18
حملے ریکارڈ کیے گئے، جن کا نشانہ ہوائی اڈے کے علاوہ مواضع Mauza، مقبنہ Makbana اور مخا Mocha جنکشن کے علاقے بھی بنے۔
10 ستمبر کو نیویارک ٹائمز نے رپورٹ دی تھی کہ حوثیوں نے یمن میں ایک بڑی جارحانہ
کارروائی کے تحت بحیرہ احمر کے ساحل پر اسٹریٹجک اعتبار سے اہم بندرگاہی شہر مخا Mocha پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
حوثی سیاسی ونگ کے ترجمان محمد البخیتی Mohammed
al-Bukhaiti نے کہا کہ یہ تحریک نیا علاقہ حاصل کرنے کے بجائے یمن کی خودمختاری
بحال کرنا چاہتی ہے۔: