اقوام
متحدہ کے
ادارے یو این ویمن نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی خواتین کو درپیش تشدد اور
مشکلات کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ اماراتی نیوزایجنسی وام کے
مطابق ادارے نے خبردار کیا ہے کہ آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد، فوجی کارروائیوں
اور نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث مقبوضہ علاقے میں خواتین اور لڑکیوں کی
صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے، جبکہ نقل و حرکت میں رکاوٹیں گزشتہ دو دہائیوں کی
بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ مقبوضہ
مغربی کنارے، بشمول مقبوضہ بیت المقدس، میں فلسطینی خواتین کی صورتحال سے متعلق
اپنے نئے تجزیے میں ادارے نے بتایا کہ تقریباً 83,200 گھرانے خواتین کی سربراہی
میں ہیں، جو ہر 8 میں سے ایک گھرانے کے برابر ہیں۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ یہ تعداد ممکنہ طور پر اصل تعداد سے کم
ہے۔تجزیے میں اقوام متحدہ کے
دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور کی جانب سے گزشتہ جولائی میں جاری کیے گئے
اعداد و شمار کو بھی اجاگر کیا گیا، جن کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں 41,500 سے
زائد افراد بے گھر ہوئے، جن میں فلسطینی مرکزی بیورو برائے شماریات کی آبادی کے
صنفی اعداد و شمار کے مطابق 20ہزار سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں شامل ہیں۔
یو
این ویمن کے تجزیے کے مطابق خواتین کی سربراہی میں گھرانے چلانے والی خواتین پر
بھاری ذمہ داریاں عائد ہیں، ان میں سے 82 فیصد گھر کی آمدنی کا انتظام کرتی ہیں،
77 فیصد بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں، 75 فیصد خاندان کے افراد کی حفاظت سے متعلق
تمام فیصلے خود کرتی ہیں جبکہ 65 فیصد امداد کے لیے درخواستیں بھی تنہا جمع کراتی
ہیں۔تجزیے میں فلسطینی خواتین کی مشکلات کا جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا کہ مقبوضہ
مغربی کنارے میں نقل و حرکت کی تقریباً 925 رکاوٹیں موجود ہیں، جن میں عملے کی
نگرانی میں قائم چیک پوسٹس، مٹی کے تودے، سڑکوں کی رکاوٹیں اور خندقیں شامل ہیں۔
یہ
گزشتہ دو دہائیوں میں ریکارڈ کی
گئی سب سے زیادہ تعداد ہے، ان میں سے 40 فیصد چیک پوسٹس الخلیل کے ایچ ٹو علاقے
میں واقع ہیں۔ادارے نے تصدیق کی کہ سروے میں شامل تقریباً 10 میں سے 9 خواتین
سربراہانِ خانہ نے بتایا کہ چیک پوسٹس سے سفر کے دوران وہ خود کو غیر محفوظ سمجھتی
ہیں، جبکہ نصف سےزیادہ نے کہا کہ نقل و حرکت پر پابندیاں روزگار کے ذرائع تک ان کی
رسائی میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
تمام
سروے شدہ خواتین نے چیک پوسٹس سے مکمل طور پر گریز کرنے کی اطلاع دی۔یو این ویمن
نے خبردار کیا کہ خواتین کی سربراہی میں بے گھر ہونے والے گھرانوں کو بنیادی
ضروریات پوری کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جن میں نقد رقم، خوراک، لباس،
حفظان صحت کی اشیا ءاور رہائش تک رسائی شامل ہے، جبکہ انہیں اپنے بچوں کو درپیش
تشدد اور سکیورٹی خطرات کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات بھی لاحق ہیں۔