پاکستان مفاہمتی یادداشت کی طرف
واپس آئیں اور اس کے تحت طے پانے والے نکات کی بنیاد پر مذاکراتی عمل دوبارہ شروع
کریں۔
برطانوی
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ یی Wang Yi نے یہ بات بیجنگ میں ایرانی ہم منصب عباس عراقچی Seyyed Abbas Araghchi سے ملاقات کے دوران کہی، چینی وزارت خارجہ کے
مطابق وانگ یی Wang Yi نے کہا کہ امریکا اور
ایران کو عقلی رویہ اختیار کرتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور باہمی تشویش
کے معاملات پر بامعنی مذاکرات کرنے چاہئیں۔ وانگ یی Wang Yi نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کا طول پکڑنا فریقین اور
عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں نہیں، چین نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ جلد
از جلد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آئیں، اب تک حاصل کیے گئے اتفاق
رائے کی بنیاد پر مذاکراتی نظام کو دوبارہ فعال کریں اور اپنے اپنے تحفظات پر
بامعنی مشاورت کریں۔
چین کا آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ
وانگ
یی Wang Yi نے تمام متعلقہ فریقوں سے آبنائے ہرمز کو جلد از
جلد کھولنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ بھی کیا، ان کا کہنا تھا کہ بین
الاقوامی بحری راستوں کی سلامتی اور روانی برقرار رکھنا اور عالمی توانائی کی
ترسیل و سپلائی چین کے استحکام کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ چین
نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدگی مزید پھیل کر یمن اور بحیرہ
احمر تک نہ پہنچ جائے، بیجنگ نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ صورتحال کو مزید
پیچیدہ بنانے سے گریز کیا جائے اور تنازعات کو بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل
کیا جائے۔
چین
ایران کے جائز حقوق کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرے گا
وانگ
یی نے کہا کہ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہونے کے ناتے بین
الاقوامی تنازعات کے حل میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ چین
اور ایران جامع اسٹریٹجک شراکت دار ہیں اور بیجنگ ایران کے ساتھ مذاکرات اور تعاون
مزید مضبوط کرکے اس کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ میں مدد دینے کے لیے تیار ہے۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
کے درمیان اگلے ہفتے واشنگٹن میں متوقع ملاقات سے قبل ایران کے معاملے پر سفارتی
سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔
ایرانی حملوں سے امریکی اڈوں کو
بڑے نقصان کی نئی تصاویر
دوسری جانب امریکی
نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز نے فعال امریکی فوجیوں سے حاصل ہونے والی نئی تصاویر
جاری کی ہیں جن میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات، عمارتوں، گاڑیوں اور
طیاروں کو پہنچنے والے نقصانات دکھائے گئے ہیں۔ سی بی ایس کے مطابق سعودی عرب کے
پرنس سلطان ایئر بیس کی ایک تصویر میں بوئنگ E-3 سینٹری طیارے کا پچھلا
حصہ تباہ شدہ دکھائی دیتا ہے جبکہ کویت کے کیمپ بُہرنگ اور دیگر امریکی تنصیبات سے
حاصل تصاویر میں عمارتوں اور گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصانات بھی نظر آ رہے ہیں۔ امریکی
محکمہ دفاع کے انسپکٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکی
فوج کو 3.7 ارب ڈالر تک کے سازوسامان کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جن میں تقریباً
60 طیارے بھی شامل ہیں، رپورٹ کے مطابق ایران نے کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب
امارات، سعودی عرب، عراق، عمان اور اردن میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
اسلام آباد مفاہمتی
یاد داشت کا پس منظر
اسلام آباد مفاہمتی
یادداشت جون 2026 میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکراتی عمل کے
لیے سامنے آئی تھی، جس میں پاکستان اور قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا، پاکستان کے
صدر آصف علی زرداری نے 18 جون کو اس مفاہمت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے اور دنیا
کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا تھا۔ بعد ازاں 22 جون کو پاکستان اور قطر کے مشترکہ
بیان کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے
نمائندوں کی شرکت سے اعلیٰ سطح مذاکرات ہوئے، جن میں تکنیکی مذاکرات کے لیے طریقہ
کار وضع کرنے اور ثالثی کے عمل کی سیاسی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کرنے
پر اتفاق کیا گیا تھا۔
چین کی جانب سے اب اسی
مفاہمتی فریم ورک کی طرف واپسی پر زور ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور
ایران کے درمیان جاری جنگ نے خطے کی سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی اور سمندری
تجارت کو بھی متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال بالخصوص عالمی تیل اور گیس کی
سپلائی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے، جس کے باعث بیجنگ نے اسے کھولنے اور بین
الاقوامی بحری آمدورفت بحال رکھنے پر خصوصی زور دیا ہے۔