ایران اور
امریکا کے درمیان جاری جنگ کے
تناظرمیں دنیا کے
دو بڑے مالیاتی اداروں گولڈمین سیکس اور کیپٹل اکنامکس نے تیل کی قیمتوں کے بارے میں نئی پیشن
گوئی سے دنیا کی
منڈیو ں میں زلزلہ پیدا
کردیا ہے‘امریکا اور برطانیہ کے
بڑے مالیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرق وسطی میں تیل کی سپلائی کا معاملہ جلد طے نہ ہوا
تو عالمی منڈیوں میں خام تیل کی
قیمتیں150ڈالر فی بیرل تک جاسکتی ہیں.
عالمی
خبررساں ادارے ”رائٹرز“نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں
خام تیل کی
قیمت 120 ڈالر سے
اوپر، جبکہ برینٹ کے 130 ڈالر تک
پہنچنے کا امکان موجود ہے ‘اسی طرح توانائی کے شعبے کی عالمی ریسرچ فرم فیکٹس
گلوبل انرجی (ایف جی ای) کے مطابق مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں طویل رکاوٹ برقرار
رہنے کی صورت میں برینٹ خام تیل 120
سے 150 ڈالر فی
بیرل تک پہنچ سکتا ہے.
ادھراور
عالمی ادارے”ریٹنگ فچ“نے 2026میں برینٹ کی اوسط قیمت120ڈالر فی بیرل کا تخمینہ دیا
ہے‘ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت 110ڈالربیرل سے تجاوزکرچکی
ہے اور اس وقت بھی تیل108ڈالر کے قریب ٹریڈ کررہا ہے جوکہ ایک خطرناک رجحان ہے ‘ان
کا کہنا ہے کہ عالمی کارپوریشنززیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے قیمتیں200ڈالر بیرل
تک لیجانے کی باتیں بھی کررہی ہیں کیوں کہ ان کے نزدیک منافع سب سے اہم ہے.
ماہرین
کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتو ں کو فوری طورپر جنگ بندکروانی
چاہیے تھی مگر اس معاملے میں مجرمانہ غفلت برتی گئی لہذا ضروری ہوگیا ہے کہ
حکومتوں اور دنیا کی
لیڈرشپ پر دباﺅ بڑھایا جائے‘امریکی ماہرمعاشیات پروفیسرجیفری سیکس اس صورتحال کو
انسانیت کے لیے سرد جنگ سے
زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں ان کا کہنا ہے معاشی تباہی کسی
ایک خطے کو متاثرنہیں کررہی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا کے انسانو ںپر ہورہے ہیں اقوام
متحدہ ‘حکومتوں
اور عالمی لیڈروں پر دباﺅ بڑھانا ہوگا کہ اب اس واہیات جنگ کو
بند کیا جائے.
ادھر
”رائٹرز“نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اثرات عالمی توانائی مارکیٹ پر مزید گہرے
ہوگئے ہیں، آبنائے ہرمز میں تیل بردار
اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں غیر معمولی کمی کے باعث عالمی تیل سپلائی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے
ہیں ”رائٹرز“ کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد جنگ سے
قبل کے معمول کے مقابلے میں انتہائی کم ہوگئی ہے اس اہم آبی گزرگاہ میں پیدا ہونے والی
رکاوٹ نے عالمی منڈی کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے کیونکہ دنیا کی توانائی تجارت کا ایک بڑا حصہ
اسی راستے سے گزرتا ہے.
علاقائی
کشیدگی میں اضافے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بھی ایک بار پھر تیزی سے
بڑھ گئی برینٹ خام تیل کی
قیمت 108 ڈالر فی
بیرل سے تجاوز کرگئی، جبکہ امریکی ویسٹ
ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 103 ڈالر سے
اوپر پہنچ گیا سعودی
عرب کی
توانائی تنصیبات پر تازہ حملوں نے بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے اہم ایسٹ ویسٹ
پائپ لائن کی ترسیل متاثر ہونے کے بعد عالمی مارکیٹ میں یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ
مشرق وسطیٰ سے تیل کی
سپلائی مزید کم ہوسکتی ہے.
آبنائے
ہرمز دنیا کے
اہم ترین توانائی راستوں میں شمار ہوتی ہے یہاں طویل عرصے تک جہازرانی متاثر ہونے
کی صورت میں خام تیل اور
مائع قدرتی گیس کی
عالمی ترسیل کو شدید نقصان پہنچ
سکتا ہے، جبکہ ایشیا اور یورپ سمیت
بڑی عالمی منڈیوں کو متبادل ذرائع سے توانائی حاصل کرنا پڑے گی ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے
اثرات صرف پٹرول تک
محدود نہیں رہتے بلکہ بجلی، ٹرانسپورٹ، صنعت، خوراک اور مجموعی مہنگائی بھی متاثر ہوتی ہے تیل مہنگا ہونے سے درآمدی ممالک کا
تجارتی اور مالی دباﺅ بھی بڑھ سکتا ہے.
چین
سمیت کئی بڑے توانائی صارف ممالک بھی موجودہ بحران کے دوران اپنے تیل کے ذخائر استعمال کر رہے ہیں تاکہ
سپلائی میں ممکنہ کمی کے اثرات کو محدود کیا جاسکے پاکستان کیلئے
بھی صورتحال تشویشناک ہے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا
درآمدی بل بڑھنے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباﺅ آنے اور مہنگائی میں
اضافے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے تیل کی
قیمتوں میں مسلسل اضافہ روپے پر دباواور معیشت کے دیگر شعبوں کو بھی متاثر کرسکتا
ہے.
ماہرین
کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی، سعودی توانائی
تنصیبات پر مزید حملے ہوئے اور عالمی تیل سپلائی
میں رکاوٹ بڑھی تو خام تیل کی
قیمت 120 ڈالر فی
بیرل یا اس سے بھی زیادہ ہونے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے تاہم اگر جنگ بندی،
سفارتی مذاکرات یا
کشیدگی میں کمی کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں جہازرانی معمول پر آتی ہے تو عالمی تیل مارکیٹ میں قیمتوں پر فوری دباﺅ کم
ہوسکتا ہے.
ایران جنگ کے
باعث پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال نے واضح کردیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں عسکری
کشیدگی اب صرف خطے کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات عالمی توانائی، تجارت، مہنگائی اور معاشی استحکام
تک پہنچ چکے ہیں دنیا کی
نظریں اب آبنائے ہرمز پر مرکوز ہیں، کیونکہ اس اہم بحری راستے میں مزید رکاوٹ
عالمی معیشت کیلئے ایک بڑے توانائی بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہے.