آذربائیجان کے سرکاری
اسکولوں میں حجاب پہننے والی طالبات کو کلاسوں میں داخلے سے روکنے کے واقعات کے
خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا، جبکہ حکام نے اسکولوں کے یونیفارم سے متعلق نئے
قواعد کے نفاذ کے دوران پیش آنے والے واقعات میں 37 افراد کو حراست میں لینے کا
اعلان کیا ہے۔
دارالحکومت باکو سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں
طلبہ نے احتجاج کیا اور حجاب پہننے والی طالبات سے اظہارِ یکجہتی کے لیے کلاسوں کا
بائیکاٹ کیا۔ مظاہروں کی اطلاعات اسکول نمبر 322 اور اسکول نمبر 69 کے علاوہ مسالی
اور جلیل آباد کے علاقوں سے بھی سامنے آئی ہیں۔ مقامی میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے مطابق بعض
اسکولوں کے باہر طلبہ جمع ہوئے اور حجاب پہننے والی اپنی ساتھی طالبات کی حمایت
میں کلاسوں میں جانے سے انکار کردیا۔
باکو کے اسکول نمبر 69 کے
باہر مظاہرین کی جانب سے ایسا بینر بھی اٹھائے جانے کی اطلاع ہے جس پر درج تھا کہ
حجاب تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔ بعض والدین نے بھی نئے قواعد پر تحفظات
کا اظہار کیا اور پابندی برقرار رہنے کی صورت میں اپنے بچوں کو اسکولوں سے نکالنے
کی دھمکی دی۔ آذربائیجان کی وزارتِ داخلہ کے مطابق اسکولوں کے
یونیفارم سے متعلق قواعد پر عمل درآمد کے دوران بعض افراد نے تعلیمی عملے کے ساتھ
تنازعات پیدا کیے، تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچایا اور اسکولوں کے معمول کے کام
اور ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔
حکام نے ان واقعات کے
سلسلے میں 37 افراد کو حراست میں لینے کی اطلاع دی ہے۔ اس معاملے میں فوجداری
کارروائی بھی شروع کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ وزارتِ داخلہ کے بیان میں زیرِ حراست تمام افراد کی الگ الگ تفصیلات
اور ہر شخص پر عائد الزامات کی مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی۔