جنوبی افریقہ کے معاشی اور صنعتی مراکز، بالخصوص
جوہانسبرگ (بشمول سوویٹو کا علاقہ) اور ڈربن میں غیر ملکی تارکینِ وطن کے خلاف
شدید نوعیت کی ہنگامہ آرائی اور پرتشدد واقعات کے بعد تمام حساس علاقوں میں
سیکیورٹی انتہائی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ مسلسل دوسرے روز جاری رہنے والے ان
پرتشدد مظاہروں میں مشتعل مقامی افراد نے باقاعدہ منظم ہو کر غیر ملکی شہریوں اور
ان کے کاروباری مراکز کو نشانہ بنایا۔ مشتعل ہجوم نے سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں کو نذرِ
آتش کر دیا، غیر ملکیوں کی دکانوں اور سپر اسٹورز کے شٹر توڑ کر وسیع پیمانے پر
لوٹ مار کی، اور پولیس اہلکاروں پر اینٹیں اور شیشے کی بوتلیں برسائیں۔ حالات کی
سنگینی کو دیکھتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے
لیے بڑے پیمانے پر آنسو گیس کی شیلنگ کی اور اسٹین گرینیڈز (صوتی بموں) کا استعمال
کیا۔
اس تازہ فساد اور پرتشدد کارروائیوں کی بنیادی وجہ
محکمہ داخلہ (Home Affairs) کی ایک
ایسی متنازع پالیسی ہدایت بنی جس کے حوالے سے غلط معلومات اور افواہوں نے تیزی سے
جنم لیا۔ دراصل جنوبی افریقہ کی آئینی عدالت نے ایک فیصلہ دیا تھا جس کے تحت پناہ
کے متلاشی افراد (Asylum Seekers) کو
باضابطہ دستاویزات کے بغیر بھی داخلے پر درخواستیں جمع کرانے کی اجازت دی گئی تھی۔
اس عدالتی حکم کے نفاذ کے لیے جاری کی جانے والی حکومتی ہدایت کے بعد سینکڑوں
تارکینِ وطن ریفیوجی مراکز پر اکٹھے ہو گئے۔ تارکینِ وطن کے خلاف سرگرم مقامی
گروپوں نے اس معاملے کو ہوا دی اور عوام میں یہ افواہ پھیلا دی کہ موجودہ اے این
سی (ANC) حکومت
غیر قانونی تارکینِ وطن کو بغیر کسی چھان بین کے خودکار طریقے سے قانونی حیثیت اور
دستاویزات دینے جا رہی ہے۔ اس غلط فہمی نے مقامی آبادی میں غم و غصے کی آگ کو
بھڑکا دیا۔
مقامی رہنماؤں اور سیاسی نمائندوں نے بھی عوامی جذبات
کو مزید ہوا دیتے ہوئے حکومتی اقدام کی کھلی مخالفت کی۔ سوویٹو سے تعلق رکھنے والے
کمیونٹی لیڈر شیپو مپوسولا نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت بیرونی اور غیر
قانونی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی جنون کی حد تک عادی بن چکی ہے۔ اسی طرح مقامی
کونسلر مپومی ایڈورڈ کا کہنا تھا کہ محکمہ داخلہ کا غیر ملکیوں کو قانونی بنانے کا
فیصلہ قطعی طور پر غلط ہے کیونکہ یہ تمام افراد غیر قانونی راستوں سے ملک میں داخل
ہوئے ہیں، لہٰذا انہیں قانونی دستاویزات فراہم کرنے کے بجائے فوری طور پر جیلوں
میں ڈالنا چاہیے۔ صورتحال پر قابو پانے اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے
محکمہ داخلہ نے ہنگامی اقدام کے طور پر جمعہ کے روز اس ہدایت نامے کو باضابطہ طور
پر واپس لے لیا اور اعلان کیا کہ وہ آئینی عدالت کے تقاضوں کے مطابق ایک نیا جامع
پلان تیار کرے گا۔
یہ پرتشدد واقعات کسی اچانک ردعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ
جنوبی افریقہ میں غیر ملکیوں کے خلاف جاری منظم اور گہری تحریک کا تسلسل ہیں، جس
کی قیادت "مارچ اینڈ مارچ" جیسے قوم پرست اور تارکینِ وطن مخالف گروپ کر
رہے ہیں۔ اس سے قبل ان گروہوں نے غیر ملکیوں کو ملک چھوڑنے کے لیے 30 جون کی غیر
سرکاری ڈیڈ لائن دی تھی، جس کے نتیجے میں خوف وہراس کی فضا قائم ہوئی اور افریقی
ممالک سے تعلق رکھنے والے دسیوں ہزار تارکینِ وطن ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔
اگرچہ جون کے مہینے میں حکومت نے سرحدوں کی کڑی نگرانی، انسانی اسمگلنگ کے نیٹ
ورکس پر سخت کریک ڈاؤن اور نااہل غیر قانونی افراد کی ملک بدری کے عمل کو تیز کرنے
کا اعلان کیا تھا، لیکن اس کے باوجود زمینی سطح پر کشیدگی برقرار رہی۔
براعظم
افریقہ کا سب سے بڑا اور امیر ترین معاشی مرکز ہونے کے ناطے جنوبی افریقہ کئی
دہائیوں سے روزگار اور بہتر زندگی کے متلاشی تارکینِ وطن کے لیے کشش کا باعث رہا
ہے، لیکن گزشتہ دو دہائیوں سے یہاں نسل پرستانہ حملوں اور غیر ملکیوں کے خلاف تشدد (Xenophobia) کی لہر وقفے وقفے سے سر اٹھاتی
رہتی ہے۔ اس وقت جنوبی افریقہ میں بے روزگاری کی شرح 30 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے،
اور مقامی آبادی کا یہ دعویٰ ہے کہ غیر ملکی ان کے محدود معاشی وسائل، ملازمتیں
اور کاروباری مواقع چھین رہے ہیں۔ 4 نومبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے قریب
آتے ہی غیر قانونی امیگریشن کے مسئلے کو انتخابی سیاست اور ووٹرز کو متحرک کرنے کے
لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے، جس نے غیر ملکی باشندوں کی جان، مال اور
روزگار کے تحفظ کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔