برطانیہ کی یونیورسٹیوں نے ویزا مسترد ہونے کی بڑھتی
ہوئی شرح اور ہوم آفس کے سخت ترین ضوابط کے پیشِ نظر پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت
سمیت مختلف ممالک کے بین الاقوامی طلبہ کے داخلے منسوخ کرنا شروع کر دیے ہیں۔
فنانشل ٹائمز کے تجزیے کے مطابق، 2026 کی پہلی ششماہی میں برطانیہ کی اسٹڈی ویزا
درخواستوں کی دستبرداری کی شرح 10.5 فیصد تک جا پہنچی، جو کہ 2025 میں 2.3 فیصد
اور 2023 میں محض 0.4 فیصد تھی۔ جامعات نے واضح کیا ہے کہ یہ کمی طلبہ کی مرضی کے
بجائے یونیورسٹیوں کی جانب سے پیشگی اقدامات کا نتیجہ ہے تاکہ ان کا لائسنس خطرے
میں نہ پڑے۔
سب سے زیادہ متاثر پاکستانی طلبہ ہوئے ہیں جن کی
درخواستوں کی واپسی کی شرح گزشتہ سال کے 3 فیصد کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر
بڑھ کر 40.9 فیصد ہو چکی ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیشی طلبہ کی شرح 7.1 فیصد سے بڑھ کر
23.5 فیصد، نائیجیریا کی 4.5 فیصد سے 22.7 فیصد اور بھارتی طلبہ کی شرح 1.2 فیصد
سے بڑھ کر 5.2 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 15 برطانوی جامعات نے
اس سال پاکستان سے طلبہ کے داخلے مکمل طور پر معطل کر دیے ہیں، کیونکہ ویزا
پراسیسنگ ڈیٹا کے مطابق تقریباً نصف یونیورسٹیوں میں ویزا مسترد ہونے کی شرح مقررہ
حد سے تجاوز کر چکی ہے۔
اس بحران کی بنیادی وجہ برطانوی ہوم آفس کے "بیسک
کمپلائنس اسیسمنٹ" (BCA) کے نئے
سخت قوانین ہیں، جن کے تحت یکم جون 2026 سے یونیورسٹیوں کے لیے ویزا ریفیوزل کی
شرح 10 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد سے نیچے رکھنا لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ
انرولمنٹ کی شرح 90 فیصد سے بڑھا کر 95 فیصد کر دی گئی ہے۔ اس حد سے تجاوز کرنے پر
یونیورسٹیوں کا اسپانسرشپ لائسنس منسوخ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ہوم آفس کے ضابطے کے
تحت اگر یونیورسٹی ویزا کا حتمی فیصلہ آنے سے پہلے جاری کردہ کیش لیٹر (CAS) واپس لے لے تو وہ مسترد شدہ ویزوں
کے کوٹے میں شمار نہیں ہوتا، اسی لیے جامعات ویزا مسترد ہونے کے خوف سے طلبہ کے
کیسز خود ہی واپس لے رہی ہیں۔
جامعات کے سربراہان اور ماہرینِ تعلیم نے ویزا حکام کے
فیصلوں کو غیر متوقع، مبہم اور متنازع قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بہت سے
انٹرویوز میں معمولی یا غیر متعلقہ بنیادوں پر ویزے مسترد کیے جا رہے ہیں، جس سے
یونیورسٹیوں کے پاس پیشکشیں منسوخ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا۔ تعلیمی ماہرین
نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی طلبہ کی فیسوں پر انحصار کرنے والے تعلیمی اداروں
کو شدید مالی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا، جس کے نتیجے میں متعدد کورسز بند اور
ہزاروں ملازمین فارغ ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب ہوم آفس کا مؤقف ہے کہ اگرچہ بین
الاقوامی طلبہ کی اہمیت مسلمہ ہے، لیکن امیگریشن نظام کے تقدس کو برقرار رکھنے کے
لیے یونیورسٹیوں کو ذمہ داری سے داخلے کرنے ہوں گے۔
برطانیہ کے تعلیمی اور امیگریشن نظام میں پیدا ہونے
والا یہ غیر معمولی بحران برطانوی حکومت کی طرف سے پاکستان، بھارت یا بنگلہ دیش پر
عائد کی گئی کسی قانونی یا قومی پابندی کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ یہ انفرادی جامعات
کے اپنے دفاعی انتظامی فیصلے ہیں۔ اس بحران کا بنیادی محرک برطانوی ہوم آفس کا وہ
سخت ترین ضابطہ ہے جس کے تحت یونیورسٹیوں کے لیے ویزا مسترد ہونے کی شرح 10 فیصد
سے کم کر کے لازمی طور پر 5 فیصد سے نیچے رکھنا طے کی گئی ہے۔ ہوم آفس کے قواعد کے
مطابق اگر کسی طالب علم کا ویزا باضابطہ مسترد ہو جائے تو وہ یونیورسٹی کے ریفیوزل
ریٹ میں شمار ہوتا ہے جس سے ان کا اسپانسرشپ لائسنس معطل ہو سکتا ہے، لیکن اگر
جامعہ ویزے کے حتمی فیصلے سے قبل جاری کردہ تصدیقی خط (CAS) خود
واپس لے لے تو وہ اس منفی ریکارڈ سے محفوظ رہتی ہے۔ اسی لیے جامعات اپنے بین
الاقوامی بھرتی کے لائسنس کو بچانے کی خاطر طلبہ کے داخلے پیشگی طور پر بڑے پیمانے
پر منسوخ کر رہی ہیں۔
اس سخت
پالیسی نے خاص طور پر پاکستانی طلبہ کو شدید ترین دھچکا پہنچایا ہے، جن کی
درخواستوں کی منسوخی کی شرح گزشتہ سال کے محض 3 فیصد سے اچانک چھلانگ لگا کر 40.9
فیصد تک جا پہنچی ہے اور تقریباً 15 جامعات نے پاکستان سے نئے داخلے مکمل طور پر
روک دیے ہیں۔ دوسری جانب اس صورتِ حال کے اثرات خود برطانوی اعلیٰ تعلیم کے شعبے
کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی طلبہ کی بھاری فیسیں جامعات
کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ تعلیمی ماہرین اور وائس چانسلرز نے متنبہ
کیا ہے کہ جنوبی ایشیا سے داخلوں میں اس ریکارڈ گراوٹ کی وجہ سے درجنوں جامعات کو
شدید مالیاتی خسارے، مختلف تعلیمی شعبہ جات و کیمپسز کے بند ہونے اور بڑے پیمانے
پر اساتذہ و عملے کی برطرفیوں جیسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔