اقوام
متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کو درپیش
پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ ان اقدامات پر
نظرثانی کریں اور خواتین کو ان کے بنیادی حقوق واپس دیے جائیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق افغان خواتین اور لڑکیوں
کو تعلیم، ملازمت اور معاشرے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے مواقع سے محروم کیے جانے
کے باعث ان کی صورتحال بدستور سنگین ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی
پابندیاں نہ صرف خواتین کے بنیادی حقوق متاثر کرتی ہیں بلکہ افغانستان کی ترقی اور
معاشی استحکام میں بھی رکاوٹ بنتی ہیں۔ گوتریس نے خاص طور پر افغان خواتین کے
اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے اور ادارے کے دفاتر تک رسائی پر عائد پابندی ختم کرنے
کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو محفوظ ماحول میں اقوام متحدہ کے مراکز
تک بلا رکاوٹ رسائی ملنی چاہیے۔
اقوام
متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے طالبان پر زور دیا کہ افغان خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم،
روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا
کہ افغانستان کے مستقبل کے لیے خواتین کی مکمل اور بامعنی شمولیت انتہائی اہم ہے۔ اقوام
متحدہ مسلسل طالبان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں سے متعلق عائد
پابندیوں کو واپس لیا جائے اور انہیں معاشرے کے مختلف شعبوں میں فعال کردار ادا
کرنے کی اجازت دی جائے۔