Politics
پی ٹی آئی لانگ مارچ کرک سے کوہاٹ پہنچ گیا
لکی مروت سے شروع ہونے والا پتحریک انصاف کا لانگ مارچ کرک میں شبانہ قیام کے بعد کوہاٹ کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔
- Reading time
- 3 منٹ کا مطالعہ
- اشاعت
- 5 اکتوبر، 2026، 8:45 AM

Politics
لکی مروت سے شروع ہونے والا پتحریک انصاف کا لانگ مارچ کرک میں شبانہ قیام کے بعد کوہاٹ کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔

لکی مروت سے شروع ہونے والا پتحریک انصاف کا لانگ مارچ کرک میں شبانہ قیام کے بعد کوہاٹ کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اس لانگ مارچ کی قیادت کر رہے ہیں جو کوہاٹ پہنچ کر کارکنان سے خطاب کریں گے، جبکہ رکن قومی اسمبلی شہریار آفریدی ان کا استقبال کریں گے۔ کوہاٹ میں قیام کے بعد یہ قافلہ پشاور کی طرف روانہ ہوگا اور پارٹی قیادت کے مطابق چارسدہ اور صوابی پہنچنے پر آئندہ کے لائحہ عمل کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
دوسری جانب، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے سیاسی لانگ مارچ میں سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال پر وفاقی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے طنزیہ بیان میں کہا ہے کہ سہیل آفریدی کا پشاور سے لکی مروت کا ہیلی کاپٹر کا سفر ضرور سرکاری کام کے لیے ہوگا اور ممکنہ طور پر اس کا تعلق سکیورٹی صورتحال سے ہے۔ دریں اثنا، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ وزیر داخلہ سے ملاقات میں سرکاری وسائل کا سیاسی مارچ میں استعمال اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
بنوں اور کرک کی سرحد پر واقع ختم نبوت چوک پر شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں لیکن حالیہ مذاکرات میں بعض حلقوں کی جانب سے ایسے مطالبات پیش کیے گئے جو صوبے اور عوام کے مفاد کے خلاف ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان ملاقاتیں ہونی چاہئیں اور بڑے سیاسی، آئینی معاملات پر مشترکہ کمیٹی کے تحت تفصیلی مذاکرات کیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر دی گئی یقین دہانیوں پر عمل درآمد ہوا تو لانگ مارچ منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
ادھر وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے اپنے ایک بیان میں پی ٹی آئی وفد کے سامنے رکھے گئے سات مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مطالبات میں کالعدم ٹی ٹی پی کی مذمت، دہشتگردوں کے ٹھکانوں کا خاتمہ، افغان مہاجرین کی واپسی اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد شامل تھا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی کے مذاکراتی وفد کے پاس مکمل مینڈیٹ نہیں تھا اور اگر فیصلے خود سہیل آفریدی نے کرنے تھے تو انہیں خود مذاکرات میں شامل ہونا چاہیے تھا۔