ترکیہ کے سب سے بڑے شہر استنبول میں
بدھ کے روز شروع ہونے والی طوفانی بارشوں اور سیلابی صورتحال نے شدید تباہی مچائی،
جس کے اثرات جمعرات تک برقرار رہے۔ طوفانی بارشوں کی وجہ سے سڑکیں تالاب بن گئیں،
درجنوں مکانات زیرِ آب آ گئے، جبکہ ہنگامی بنیادوں پر لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب میں
پھنسے لوگوں کو نکالنے کا کام جاری ہے۔
استنبول میٹروپولیٹن بلدیہ کے مطابق
بیکوز کے علاقے میں 242 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو 1985 کے بعد سے شہر
میں ریکارڈ کی جانے والی سب سے زیادہ بارشوں میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ ایوب
سلطان میں 190.5 ملی میٹر اور ساری یر میں 187.9 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
بلدیہ کو ایمرجنسی کی 6,937 کالز موصول ہوئیں، جبکہ گورنر آفس نے سیلاب کے 1,277
واقعات، 15 جگہوں پر لینڈ سلائیڈنگ اور 47 مقامات پر لوگوں کے پھنس جانے کی تصدیق
کی ہے۔
سیلابی ریلے کے باعث 2 ہلاکتیں
بارشوں اور سیلاب کی زد میں آ کر 2
افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ تاریخی علاقے فاتح کے چقور بوستان پارک
میں ایک 14 سالہ بچہ، جس کی شناخت ایم آئی (M.I) کے نام سے ہوئی، پانی میں قدم رکھتے ہی کرنٹ لگنے سے جاں بحق
ہو گیا۔ گورنر آفس کے مطابق بچے کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا تاہم
وہ جانبر نہ ہو سکا۔ حکام نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
دوسرا واقعہ ساری یر میں پیش آیا جہاں
34 سالہ ایس وائی نامی شخص سیلابی سڑک عبور کرتے ہوئے توازن برقرار نہ رکھ
سکا اور اس کا سر فٹ پاتھ سے جا ٹکرایا، جو بعد میں اسپتال میں زخموں کی تاب نہ
لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ ایسنیورٹ، بیکوز، کوچک چکمجے اور ساری یر جیسے رہائشی
علاقوں میں بھی شدید پانی بھر گیا۔ ایسنیورٹ میں شہریوں نے ایک عورت کو سیلابی
ریلے میں بہنے سے بچایا، جبکہ بیکوز میں مقامی لوگوں نے ایک بزرگ شہری کو ڈوبتے
ہوئے گھر سے باہر نکالا۔ شدید بارش کی وجہ سے کاغذ خانہ ندی میں طغیانی آ گئی، جس
سے تاریخی سادآباد مسجد اور اس کے اطراف کا علاقہ زیرِ آب آ گیا اور پانی نماز کے
ہال اور منبر کے نچلے حصے تک پہنچ گیا۔
پروازیں منقطع، لیکن ٹرانسپورٹ کی بحالی شروع
تیز ہواؤں اور بارانی طوفان نے استنبول
کے دونوں بڑے ہوائی اڈوں پر فلائٹ آپریشن کو شدید متاثر کیا۔ وزارتِ ٹرانسپورٹ کے
مطابق استنبول ایئرپورٹ پر اترنے والی 43 پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا، جن میں سے 39
کو ترکیہ کے دیگر ایئرپورٹس اور 4 کو بیرونِ ملک بھیجا گیا۔ صبیحہ گوکچن ایئرپورٹ پر
بھی تیز ہواؤں کی وجہ سے پروازیں عارضی طور پر روک دی گئیں، تاہم بدھ کی رات دیر
گئے فلائٹ آپریشن بحال کر دیا گیا۔
میٹرو اسٹیشنز، زیریں گزرگاہوں اور اہم
شاہراہوں پر بھی پانی بھر جانے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم رہا۔ تاہم جمعرات کی
صبح سے پبلک ٹرانسپورٹ کی بحالی شروع ہو گئی اور میٹرو استنبول نے بیشتر ٹرام اور
میٹرو لائنز پر سروسز مکمل بحال کر نے کا اعلان کیا۔
6 صوبوں میں اسکول بند، مزید بارشوں کی پیشگوئی
مسلسل خراب موسم کی وجہ سے حکام نے
استنبول، دوزجے، زونگولداک، ساکاریا، کوجائلی اور یالووا میں جمعرات کو تمام تعلیمی
ادارے بند رکھے۔ استنبول کی کئی یونیورسٹیوں نے تدریسی عمل آن لائن منتقل کر دیا،
جبکہ سرکاری ملازمین کو انتظامی چھٹی دے دی گئی۔ اس کے علاوہ استنبول اور یالووا
میں موٹر سائیکلوں اور سکوٹرز کی آمدورفت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ شہر بھر
میں 8 ہزار سے زائد اہلکار اور 2 ہزار سے زائد بھاری مشینری و گاڑیاں امدادی کاموں
میں مصروف ہیں۔ استنبول کے گورنر داؤد گل نے شہریوں، بالخصوص تہہ خانوں میں رہنے
والے لوگوں کو محفوظ بالائی منزلوں پر منتقل ہونے اور ندی نالوں کے قریب جانے سے
گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ڈیزاسٹر کوآرڈینیشن سینٹر نے خبردار کیا ہے کہ شہر کے
ایشیائی حصے اور آبنائے باسفورس کے اطراف مزید 50 سے 75 ملی میٹر بارش کا امکان
ہے، لہٰذا شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔