وینزویلا کے مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے آزادانہ انتخابات
اور دیگر سیاسی اصلاحات کے مطالبے پر سڑکوں پر اتر کر احتجاج کیا۔ تقریباً 2 سال میں اپوزیشن کا یہ پہلا ملک گیر
مظاہرہ تھا۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز Delcy Rodríguez نے انتخابات کرانے کا
اعلان کیا ہے لیکن سابق صدر نکولس مادورو Nicolás
Maduro کی جگہ نئے صدر کے انتخاب کیلئے ووٹنگ کی تاریخ
اب تک مقرر نہیں کی گئی ہے۔ مادورو Nicolás Maduro کو جنوری میں امریکی فوجی کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا
تھا۔اپوزیشن لیڈر اور نوبیل امن انعام یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو María Corina Machado نے کہا ہے کہ انتخابات
جولائی2027ء تک کرائے
جانے چاہئیں۔ وہ 2024ء کے
متنازعصدارتی انتخابات کے بعد تقریباً ایک سال تک روپوش رہنے کے بعد ملک سے باہر
ہیں۔ماچاڈو María Corina Machado کی
سیاسی تحریک وینتے وینزویلا Vente Venezuelaنے
دارالحکومت کراکس Caracasکے علاوہ
والینسیا Valencia، ماراکے Maracay، سان کرسٹوبل San
Cristóbalاور ماراکائیبو Maracaibo سمیت کئی شہروں میں مظاہروں کا اہتمام کیا۔
شمالی مارا Northern Maracay کے میں سیکڑوں مظاہرین کے
ساتھ شریک 18 سالہ کاسمیٹولوجی Cosmetology کی طالبہ لیوسماری
ہرنانڈیز Luismari Hernández نے
کہا، ’’یہ سب دیکھ کر مجھے خوشی ہوتی ہے، کیونکہ مجھے یقین ہے کہ تبدیلی ممکن
ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’ڈالر کی قدر میں اضافے اور تعلیم حاصل کرنے میں مشکلات
سمیت متعدد مسائل کی وجہ سے انہیں سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن انہیں اپنے
ملک اور مستقبل کے لیڈر اور صدر ماریا کورینا María Corina
سے بہت امیدیں وابستہ ہیں۔‘‘ہرنانڈیز Hernández نے مزید کہا، ’’میں اس سے پہلے بھی احتجاج کے لئے نکلی تھی، جب حالات
کہیں زیادہ مشکل تھے۔ آج مجھے اپنی آواز بلند کرنے کی خواہش ہے اور میں پہلے سے
بھی کم خوف محسوس کرتی ہوں۔‘‘وینزویلا می3جنوری سے طویل عرصے سے برسراقتدار
یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی آف وینزویلا (پی ایس یو وی) کی ڈیلسی روڈریگز Delcy Rodríguez عبوری صدر کے طور پر حکومت
چلا رہی ہیں۔ پی ایس یو وی کی قیادت پر سیاسی مخالفین کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف
ورزیوں، من مانی گرفتاریوں، قید اور تشدد کے الزامات عائد کئے جاتے رہے ہیں۔امریکہ
کی جانب سے سابق صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرکے قید کرنے کے لئے فوجی کارروائی
کے بعد بھی پی ایس یو وی وہائٹ ہاؤس کی حمایت سے اقتدار میں برقرار رہی۔
سرکاری فورسیز کی موجودگی محدود رہی
وینزویلا کی سوشلسٹ تحریک1999ء
سے پہلے آنجہانی صدر ہوگو شاویزHugo Chávez
اور بعد میں مادورو کی قیادت میں اقتدار میں ہے۔ ماضی میں حکومت نے مظاہرین کیخلاف
سیکوریٹی فورسیز تعینات کی ہیں لیکن جمعرات کو احتجاج کے مقامات پر سرکاری فورسیز
کی موجودگی محدود رہی۔
دوسری جانب فرانس میں مہنگائی اور عوامی خدمات کی
خراب صورت حال کے خلاف مظاہروں کے دوران ممکنہ بدامنی اور لوٹ مار روکنے کے لیے
ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کردیے گئے ہیں، جبکہ پیرس میں فوج بھی
اہم مقامات پر گشت کر رہی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حکام نے دکانوں،
سرکاری عمارتوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت
اقدامات کیے ہیں۔ پیرس میں کئی دکانیں بند کردی گئی ہیں، جبکہ لوور میوزیم، میوزے
دورسے اور اوپیرا ہاؤس سمیت اہم ثقافتی مقامات بھی بند ہیں۔ میٹرو کے 20 سے زائد
اسٹیشنوں پر آمدورفت روک دی گئی ہے۔ حکام نے بدامنی کے خدشے کے پیش نظر کئی شہروں
میں مظاہروں پر پابندیاں یا سخت پابندیاں عائد کی ہیں۔ گزشتہ ہفتے مظاہروں کے
دوران بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے تھے۔