امریکی ٹی وی کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ
کی انتظامیہ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے منصوبے تیار کرلیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام ایران میں حملوں
کے دوران طاقتور جی بی یو 43 بی بم، جسے ’مدر آف آل بمز‘ بھی کہا جاتا ہے،
استعمال کرنے کے امکان پر غور کررہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ممکنہ فوجی
کارروائی کے دوران ایران کی جوہری اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے،
تاہم ان منصوبوں پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
امریکی ٹی وی کی رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ اس نوعیت کے
ہتھیار کے استعمال سے ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع مزید شدت اختیار
کرسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی امریکی وسط مدتی
انتخابات سے پہلے یا ان کے بعد کی جاسکتی ہے۔ تاہم، یہ تمام تفصیلات امریکی ٹی وی
کی رپورٹ میں سامنے آنے والے دعووں پر مبنی ہیں اور ممکنہ کارروائی کی آزادانہ
تصدیق نہیں ہوئی۔ یہ
رپورٹ ایسے ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرنی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف
نے امریکا کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران
اپنے مطالبات منوائے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گا تاہم وہ نہ غیر معینہ مدت تک جنگ کا
خواہاں ہے اور نہ ہی طویل مذاکرات میں الجھنا چاہتا ہے۔
ایران کے
کون سے اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے؟
رپورٹ
کے مطابق امریکی فوج کو ایران کی اہم تنصیبات پر حملوں کی تیاری کی ہدایت کی گئی
ہے، ممکنہ کارروائی میں ایرانی جوہری اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا
ہے۔ ایران کو نشانہ بنانے کے امریکی فوجی ہدف میں پِک ایکس ماؤنٹین بھی شامل ہے۔ رپورٹ
میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ جی بی یو 43 بی بم کے استعمال سے جنگ میں شدت آ سکتی
ہے، ایران کے خلاف فوجی کارروائی امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے یا بعد میں
ہو سکتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ
کو سیاسی دباؤ کا سامنا
رپورٹ
میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کے لیے
سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، آئندہ وسط مدتی انتخابات سے قبل جنگ کے ممکنہ سیاسی اثرات
پر غور جاری ہے۔ امریکی حکام نے اس بارے میں شکوک کا اظہار کیا ہے کہ آیا اس سے
واشنگٹن اپنے اسٹریٹجک مقاصد حاصل کر سکے گا یا نہیں۔ رپورٹ میں بم استعمال کرنے
کے کسی حتمی فیصلے کی اطلاع نہیں دی گئی۔ دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے
رائٹرز نے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکا۔ واضح رہے کہ
امریکا نے کچھ عرصہ قبل ایران کی اہم جوہری تنصیبات فردو ، نطنز اور اصفہان پر
حملے کیے تھے تاہم ان حملوں میں تنصیبات کو کتنا نقصان پہنچا، اس حوالے سے مصدقہ
اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔