میکسیکو کی صدر کلاؤڈیا شین بام Claudia
Sheinbaum نے پیر
کو کہا کہ میکسیکو کسی بھی غیر ملک کی نوآبادی یا محفوظ ریاست نہیں ہے اور نہ ہی
بنے گا، یہ بیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سوشل میڈیا پر ایک نقشہ شیئر کرنے کے
بعد آیا، جس میں میکسیکو کی سرزمین کو امریکی پرچم تلے دکھایا گیا تھا۔ میکسیکو کی
صدر کلاؤڈیا شین بام Claudia Sheinbaum نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں
کہا، ’’اپنے وطن میں، اس وقت میں، ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ میکسیکو کسی بھی
غیر ملک کی نوآبادی یا محفوظ ریاست نہیں ہے اور نہ ہی بنے گا۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم
ایک آزاد، خودمختار اور حاکم ملک ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر یہ تصویر بغیر کسی وضاحت
کے پوسٹ کی جس میں امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کو امریکی پرچم کے رنگوں اور دھاریوں
سے ڈھکا ہوا دکھایا گیا، جبکہ دیگر علاقے بھی امریکی پرچم تلے تھے۔
بعد ازاں شین بام کے یہ تبصرے اس وقت سامنے
آئے جب سلامتی، تجارت اور نقل مکانی کے معاملات پر میکسیکو اور امریکہ کے درمیان
کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے۔میکسیکو کی صدر نے ٹرمپ انتظامیہ کے بیانات یا
اقدامات کا جواب دیتے ہوئے بارہا قومی خودمختاری کی اہمیت پر زور دیا ہے، ساتھ ہی
واشنگٹن کے ساتھ تعاون پر مبنی تعلقات برقرار رکھنے کے اپنے حکومتی ارادے پر بھی
روشنی ڈالی ہے۔ ذہن نشین رہے کہ
یہ تازہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ٹرمپ نے امریکی ریاست نیو میکسیکو کا نام بدل کر
’’نیو امریکہ‘‘ رکھنے کی تجویز کو فروغ دیا۔ ٹرمپ نے ایک تصویر شیئر کی تھی جس میں
لفظ ’’میکسیکو‘‘کو کاٹ کر اس کی جگہ ’’امریکہ‘‘ لکھا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اس سے
قبل وہ جغرافیائی خصوصیات کے نام تبدیل کرنے کی تجاویز بھی دیتے رہے ہیں، جن میں
خلیجِ میکسیکو کے لیے ان کی انتظامیہ کا ’’خلیجِ امریکہ‘‘ کا استعمال بھی شامل ہے۔
تاہم پیر کو شیئر کیے گئے نقشے کے ساتھ میکسیکو پر کسی بھی رسمی امریکی سرزمینی
دعوے کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ میکسیکو اور امریکہ کی سرحد تقریباً۳۱۴۵؍ کلومیٹر طویل
ہے اور دونوں ممالک کے وسیع معاشی تعلقات ہیں۔ یہ دونوں ممالک ریاستہائے متحدہ-میکسیکو-کینیڈا
معاہدے (USMCA) کے ذریعے بھی قریب سے جڑے ہوئے ہیں، جو ان کی زیادہ تر تجارت کو منظم
کرتا ہے۔شین بام نے ٹرمپ کے ساتھ تعلقات کو سنبھالتے ہوئے میکسیکو کی آزادی کا
دفاع کرنے کی کوشش کی ہے، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے میکسیکو پر منشیات کی اسمگلنگ اور
غیر قانونی نقل مکانی کے خلاف کوششیں تیز کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔ جبکہ میکسیکو
کی حکومت کا موقف ہے کہ دو طرفہ تعاون باہمی احترام اور ہر ملک کی خودمختاری کی
پہچان پر مبنی ہونا چاہیے۔