دھرنے میں پریس کانفرنس میں نائب امیر جماعت
اسلامی نے کہا کہ عالمی منڈی کی قیمت اپنی جگہ لیکن حکومت کی مفت خوری ہے، اسے ختم
کریں، پیٹرول کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ واپس ہونا چاہیئے، اگر ہمیں دھرنا ختم
کرنے کا نوٹس آتا ہے تو کورٹ میں جاکر اپنا موقف پیش کریں گے فاضل عدالت سے توقع
ہے عوام دوستی کا رویہ ہو عوامی احتجاج کو اسٹیبلشمنٹ یا انتظامیہ کے حوالے کرکے
عوام کے ساتھ منفی رویہ نہیں ہونا چاہیے۔
نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کا کہنا ہے
کہ حکومتی کمیٹی سے جمعرات کو دوبارہ مذکرات ہونگے حکومت سنجیدگی اختیار کرے ورنہ
عوام بہت ماریں گے اور دن سے ڈریں عوام کا مہنگائی نے جینا دوبھر کر دیا ہے، لیوی
ٹیکس کو حکومت نے اپنی عیاشیوں کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ لاہور مال روڈ دھرنے میں
حکومتی اور جماعت اسلامی کی کمیٹیوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے پریس
کانفرنس کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا حکومت کہتی ہے کہ لیوی
سے حکومت چلانا مشکل ہو جائے گا تو یہ حکومت کی نیت کی خرابی ہے، عیاشی ختم کرنے
کو تیار نہیں، عوام کو خون چوسنا دلچسپ مشغلہ بن گیا ہے، حکومت کی رٹ قائم نہیں رہی،
یہ حکومت فارم سینتالیس والی ہو یا ڈیفیکٹو ہو تو اسی سے بات کریں گے، شہبازشریف
سے کہتے ہیں اقتدار کا گدھا نہ جانے کس طرح لیٹتا ہے، تو اچھا کام کریں، پیٹرول کی
قیمت کم کریں، بجلی گیس پیٹرول کی قیمتوں میں ریلیف ملے گا تو روزگار چلے گا۔
لیاقت بلوچ نے کہا حکومت سنجیدگی اختیار کرے
وگرنہ عوام غیر سنجیدہ کو بہت ماریں گے تو اس دن سے ڈریں، ان کو سوچنا چاہیے کہ
لانے والے سہولت کاری والے ٹشو پیر کی طرح پھینک دیتے ہیں، ٹرین مارچ لانگ مارچ پہیہ
جام کا آپشن ہے اگر حکومت ہٹ دھرمی پر قائم رہی تو پھر اسے ہٹایا جائے گا، پیٹرول
کے اضافہ کو مسترد کرتے ہیں، عالمی منڈی کی قیمت اپنی جگہ لیکن حکومت کی مفت خوری
ہے، اسے ختم کریں، پیٹرول کی قیمتوں میں ظالمانہ اضافہ واپس ہونا چاہیئے، اگر ہمیں
دھرنا ختم کرنے کا نوٹس آتا ہے تو کورٹ میں جاکر اپنا موقف پیش کریں گے فاضل عدالت
سے توقع ہے عوام دوستی کا رویہ ہو عوامی احتجاج کو اسٹیبلشمنٹ یا انتظامیہ کے
حوالے کرکے عوام کے ساتھ منفی رویہ نہیں ہونا چاہیے۔