دنیا
کے پاس موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مالی اور
تکنیکی وسائل موجود ہیں لیکن کروڑوں لوگ ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ اقوام متحدہ کی آئندہ موسمیاتی کانفرنس
(کاپ 31)کو مسائل کا حل ہی نہیں ڈھونڈنا بلکہ یقینی بنانا ہے کہ یہ حل تمام ممالک
اور تمام لوگوں کی پہنچ میں ہوں۔ تباہ کن سیلاب، گرمی کی جان لیوا لہریں اور طویل خشک سالی
رواں سال کی نمایاں موسمیاتی حقیقتیں ہیں۔ سائنس
دانوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ دنیا عالمی حدت میں 1.5 ڈگری سیلسیئس سے زیادہ اضافے
کی جانب بڑھ رہی ہے جبکہ طاقتور ال نینو کی موجودگی میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات
مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں 190 سے زیادہ ممالک کے
نمائندے 9 سے 20 نومبر تک ترکیہ کے شہر انطالیہ میں کاپ 31 کے لیے جمع ہوں گے جو
اقوام متحدہ کی سالانہ عالمی موسمیاتی کانفرنس ہے۔
اگرچہ
عالمی حدت میں اضافے کی بنیادی وجہ اب بھی حیاتیاتی ایندھن (تیل، گیس، کوئلہ) کا استعمال ہے، تاہم اس
سے نجات حاصل کرنے کے لیے درکار ٹیکنالوجی غیر معمولی رفتار سے ترقی کر رہی ہے۔
شمسی توانائی، الیکٹرک گاڑیاں اور بیٹری سٹوریج سسٹم پہلے کے مقابلے
میں زیادہ قابل رسائی اور سستے ہوتے جا رہے ہیں۔
اس
کے باوجود بہت سے ممالک اس سے فائدہ اٹھانے میں ناکام ہیں۔
آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
کاپ
سے قبل یو این نیوز نے موسمیاتی اقدامات اور ماحول دوست توانائی کی جانب منصفانہ
منتقلی کے امور پر اقوام متحدہ کے خصوصی مشیر سیلوین ہارٹ سے بات چیت کی جس میں
انہوں نے بتایا کہ کاپ میں دنیا کا کیا کچھ داؤ پر لگا ہے، پیش رفت کی راہ میں کون
سی رکاوٹیں ہیں اور موسمیاتی سفارت کاری کا ایک اور دور کیا نتائج دے سکتا ہے۔
کاپ 31 کی اہمیت
کاپ
کا مطلب 'کانفرنس آف دی پارٹیز' یا فریقین کی کانفرنس ہے۔ فریقین سے مراد وہ ممالک ہیں جو موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے فریم
ورک کنونشن (یو این ایف سی سی سی) کا حصہ ہیں۔ ان سالانہ کانفرنسوں میں
دنیا بھر کی حکومتیں موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اب تک کی پیش رفت کا جائزہ
لیتی ہیں اور ایسے اقدامات پر مذاکرات کرتی ہیں جن کے لیے کسی ایک ملک کے بجائے
پوری دنیا کی مشترکہ کوشش درکار ہے۔ 2015 میں
انہی مذاکرات کے نتیجے میں تاریخی پیرس معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت رکن ممالک نے
عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو صنعتی دور سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں کم رکھنے
اور اسے 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنے کی کوششوں کا عہد کیا تھا۔ اب کاپ کے
اجلاس محض حکومتی مذاکرات تک محدود نہیں رہے۔ کاروباری ادارے، سائنس دان، مقامی
اور قدیمی مقامی باشندوں کے نمائندے، نوجوان اور سول سوسائٹی بھی ان میں بڑھ چڑھ
کر حصہ لیتے ہیں جس سے اس مسئلے کی وسعت اور سنگینی کا اظہار ہوتا ہے۔ سیلوین ہارٹ
کہتے ہیں کہ، اب یہ بات واضح طور پر تسلیم کی جا رہی ہے کہ موسمیاتی بحران سے
نمٹنے کے لیے سبھی کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
موسمیاتی کانفرنس کی افادیت
عموماً
ایسی کسی کانفرنس کی کامیابی کا اندازہ اس کے اختتام پر ہونے والے معاہدے سے لگایا
جاتا ہے۔ بعض اوقات اس معاہدے تک پہنچنے کے لیے
کئی روز کی مشکل بات چیت کے بعد آخری لمحات میں سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں۔ تاہم
سیلوین ہارٹ کا کہنا ہے کہ صرف اس معاہدے کو دیکھنے سے پوری تصویر سامنے نہیں آتی۔
وہ کہتے ہیں کہ یہ کانفرنسیں تین طریقوں سے مثبت فرق پیدا کر سکتی ہیں۔
رکن
ممالک موسمیاتی مالی معاونت کی فراہمی، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لانے اور
موسمیاتی اثرات سے مطابقت پیدا کرنے جیسے معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش
کرتے ہیں۔ تاہم جغرافیائی اور سیاسی اختلافات
عموماً زیادہ موثر فیصلوں کی راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔
- ·
قابل عمل اقدامات کا ایجنڈا
حکومتیں،
ترقیاتی بینک، کاروباری ادارے اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں مل کر مسائل کے قابل عمل
حل تلاش کرتی ہیں۔ ان میں قابل تجدید توانائی کے فروغ، بجلی کے ترسیلی نظام کو
جدید بنانے اور میتھین گیس کے اخراج میں کمی لانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
- ·
ملکی سطح پر وعدے اور اقدامات
رکن
ممالک ان اجلاسوں کو اپنے ہاں نئے اقدامات کا اعلان کرنے کے لیے بھی استعمال کرتے
ہیں۔ ان میں نئے موسمیاتی منصوبے، حیاتیاتی ایندھن پر انحصار کو کم کرنے کے وعدے
اور موسمیاتی مقاصد کے لیے مالی معاونت شامل ہو سکتی ہے۔ سیلوین ہارٹ کہتے ہیں کہ،
بعض اوقات یہ توقع کی جاتی ہے کہ کاپ میں کوئی ایسا بڑا اور تاریخی معاہدہ ہو جائے
گا جو موسمیاتی بحران کو حل کر دے گا۔
لیکن حقیقت میں ایسا ہونا ممکن
نہیں۔
امسال
ترکیہ اس کانفرنس کی میزبانی اور صدارت کرے گا جبکہ آسٹریلیا مذاکرات کی قیادت کر
رہا ہے جو بحرالکاہل کے جزیرہ نما ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ اس کانفرنس میں
خاص طور پر وعدوں کے بجائے قابل عمل اقدامات پر توجہ دی جائے گی۔ ترکیہ نے ماحول
دوست توانائی، غذائی تحفظ، موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کے قابل شہروں، ماحول
دوست صنعتوں، سمندروں کے تحفظ اور کچرے میں کمی لانے سے متعلق اقدامات کو ترجیح دی
ہے۔ سیلوین ہارٹ کا کہنا ہے کہ وہ ذاتی طور پر یہ مہم چلا رہے ہیں کہ کانفرنس
ایجنڈے کا نام تبدیل کرکے عملدرآمدی ایجنڈا رکھا جائے۔ ان کا مقصد اس بات پر زور
دینا ہے کہ اب صرف وعدے کرنے کے بجائے ان پر عملدرآمد کا وقت ہے۔
انطالیہ میں متوقع فیصلے
سفارتی
زبان اور مذاکرات کے پیچھے ایسے فیصلے ہوتے ہیں جو لاکھوں انسانوں کی زندگیوں پر
اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے
حوالے سے اب بھی کئی اہم مسائل حل طلب ہیں جن میں درج ذیل حالیہ کانفرنس میں توجہ
کا مرکز ہوں گے۔
ترقی
پذیر ممالک چاہتے ہیں کہ امیر ممالک پیرس معاہدے کے تحت کیے گئے مالی وعدے پورے
کریں۔ تاہم اس حوالے سے اختلافات برقرار ہیں کہ مالی وسائل فراہم کرنے کی ذمہ داری
کس پر عائد ہوتی ہے، ان وسائل تک رسائی کیسے ممکن بنائی جائے اور عالمی مالیاتی
نظام کے وسائل کو موسمیاتی اقدامات کی طرف کیسے منتقل کیا جائے۔
گزشتہ
سال رکن ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ صاف اور ماحول دوست معیشتوں کی طرف
منتقلی میں مدد دینے کے لیے ایک نظام قائم کیا جائے گا۔ تاہم اب بھی اس کے طریقہ
کار اور عملی صورت پر فیصلہ ہونا باقی ہے۔
- ·
موسمیاتی اثرات سے مطابقت
کاپ
کے دوران مذاکرات کار موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے کے اقدامات میں پیش
رفت جانچنے کے طریقوں پر کام جاری رکھیں گے جبکہ ترقی پذیر ممالک اس مقصد کے لیے
مزید مالی معاونت کا مطالبہ کریں گے۔
گرین ہاؤس گیسوں کا مسئلہ
حکومتوں
کے درمیان اس بات پر اختلافات برقرار ہیں کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی
لانے کے اقدامات کو کس طرح مزید موثر بنایا جائے اور پہلے سے کیے گئے وعدوں پر
عملدرآمد کیسے کیا جائے۔ کاپ 31 کے دوران عالمی جائزے کے دوسرے مرحلے کا آغاز بھی
ہو گا۔ یہ پیرس معاہدے کے تحت ایک باضابطہ عمل ہے جس کے ذریعے عالمی برادری کی
جانب سے معاہدے کے طویل مدتی اہداف کے حصول کی جانب ہونے والی مجموعی پیش رفت کا
جائزہ لیا جاتا ہے۔
'کیا جنگ
ہاری جا چکی ہے؟'
سائنس
دان خبردار کر رہے ہیں کہ دنیا عارضی طور پر 1.5 کے ہدف کو کھو کر درجہ حرارت میں
اضافے کی یہ حد عبور کر سکتی ہے۔ تاہم عالمی درجہ
حرارت اس حد سے کتنا اوپر جائے گا اور کتنی مدت تک وہاں رہے گا، اس کا انحصار
حکومتوں، کاروباری اداروں اور معاشروں کی جانب سے آج لیے جانے والے فیصلوں پر ہے۔ سیلوین
ہارٹ کے مطابق، عارضی طور پر حدت بڑھنے کا مطلب ہار مان لینا نہیں بلکہ اس صورت
حال سے ہمیں کہیں زیادہ فوری اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت کا احساس ہونا چاہیے۔ اچھی خبر یہ ہے کہ دنیا آج اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے
پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر وسائل اور صلاحیت رکھتی ہے۔
امید کی
کرن
ایک
دہائی پہلے ماحول دوست اور قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی کی صورتحال آج سے
بالکل مختلف تھی۔ اب ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کی رفتار غیر معمولی طور پر تیز
ہو چکی ہے۔ 10 سال پہلے دنیا
بھر میں فروخت ہونے والی نئی گاڑیوں میں ایک فیصد سے بھی کم الیکٹرک تھیں۔ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر ایک چوتھائی
گاڑی تک پہنچ گئی اور توقع ہے کہ رواں سال نئی فروخت ہونے والی گاڑیوں میں الیکٹرک
گاڑیوں کا حصہ 28 فیصد ہو جائے گا۔ گزشتہ سال دنیا بھر میں شمسی
توانائی کی پیداواری صلاحیت میں 600 گیگاواٹ سے زیادہ اضافہ ہوا۔ یہ قابل تجدید
توانائی کے شعبے میں گزشتہ سال ہونے والے مجموعی اضافے کا تین چوتھائی سے بھی
زیادہ تھا۔ دنیا بھر میں بیٹریوں کے ذریعے بجلی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 2021 کے
مقابلے میں اب 11 گنا بڑھ چکی ہے۔ گزشتہ سال ہی اس شعبے میں 108 گیگاواٹ کی نئی
صلاحیت شامل کی گئی ہے۔
حل موجود،
رکاوٹ کیا ہے؟
ماحول دوست توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری تیزی سے بڑھی ہے، لیکن
اس کے فوائد دنیا کے تمام ممالک اور آبادیوں تک یکساں طور پر نہیں پہنچ سکے۔ چین
کے علاوہ ابھرتی ہوئی اور ترقی پذیر معیشتوں میں دنیا کی تقریباً دو تہائی آبادی
مقیم ہے لیکن 2025 میں صاف توانائی پر عالمی سرمایہ کاری کا صرف 18 فیصد ان ممالک
کو حاصل ہوا تھا۔ سیلوین ہارٹ کے مطابق، سرمایہ کاری کے لیے درکار مالی وسائل کی
لاگت سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں قابل تجدید توانائی کے
منصوبوں کے لیے سرمایہ حاصل کرنا امیر ممالک کے مقابلے میں کئی گنا مہنگا پڑتا ہے
حالانکہ دونوں جگہ استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی ایک جیسی ہوتی ہے۔ موسمیاتی مالی
معاونت کے حوالے سے ایسے طریقہ کار درکار ہیں جو رکن ممالک کے قرضوں میں مزید
اضافہ نہ کریں۔ کاپ 31 دو ہفتوں میں موسمیاتی بحران حل نہیں کر سکتی لیکن یہ ان
رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد ضرور دے سکتی ہے جو پہلے سے موجود طریقہ ہائے کار اور
ان کے ضرورت مند لوگوں کے مابین حائل ہیں۔