دنیا بھر میں شدید
غربت کا شکار افراد کی تعداد بڑھ کر ایک ارب 20 کروڑ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے عالمی
غربت انڈیکس میں 2010 میں اس کے اجرا کے بعد پہلی بار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اقوام
متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یعنی یو این ڈی پی نے پیر کو جاری کردہ اپنی سالانہ
رپورٹ 2026 میں بتایا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں شدید غربت کا شکار افراد کی
تعداد میں 5 کروڑ 15 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے، یہ رپورٹ یو این ڈی پی اور آکسفورڈ
پاورٹی اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے۔
یو این ڈی پی کے
منتظم الیگزینڈر ڈی کرو نے عالمی سطح پر غربت میں اضافے کو دنیا کے لیے خطرے کی
گھنٹی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صورت حال عالمی برادری کے لیے لمحۂ فکریہ ہونی
چاہیے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار کے پیچھے ایک ارب 20 کروڑ ایسے
افراد کی مشکلات پوشیدہ ہیں جنہیں بیک وقت بھوک، تعلیم سے محرومی، صاف پانی کی عدم
دستیابی اور بجلی کی قلت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورت حال
ناقابل قبول ہے۔ رپورٹ کے مطابق شدید غربت کا شکار افراد میں نصف سے زیادہ بچے
شامل ہیں، جنہیں بنیادی ضروریات اور سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث متعدد مشکلات
کا سامنا ہے۔
آبادی میں اضافہ
بھی غربت بڑھنے کی اہم وجہ
یو این ڈی پی کے
مطابق عالمی سطح پر غربت میں اضافے کی ایک بڑی وجہ آبادی میں اضافہ بھی ہے، رپورٹ
میں شامل 108 ترقی پذیر ممالک میں سے صرف 13 ممالک کے لیے نئے اعداد و شمار دستیاب
تھے، اس لیے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے اس پہلو کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ رپورٹ
میں عالمی غربت کی صورت حال کو ملی جلی قرار دیا گیا ہے۔ ایک جانب دنیا بھر میں
غربت سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، تو دوسری جانب گزشتہ 15
برس کے دوران 33 ممالک اپنی آبادی میں غربت کی شرح نصف کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ ان
ممالک میں سب صحارا افریقہ کے چھ ممالک بھی شامل ہیں، جبکہ غربت میں کمی کے حوالے
سے تیز رفتار پیش رفت کرنے والے ممالک میں ایشیائی ممالک چین اور ویتنام نمایاں ہیں۔
سب سے زیادہ متاثرہ خطے
رپورٹ کے مطابق
گزشتہ برس کی طرح اس مرتبہ بھی غربت سے سب سے زیادہ متاثرہ افراد کی اکثریت سب
صحارا افریقہ اور جنوبی ایشیا میں مقیم ہے۔ جنوبی ایشیا دنیا کے گنجان آباد ترین
خطوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں آبادی کا بڑا حصہ بنیادی سہولیات کی کمی سے متاثر ہے۔
یو این ڈی پی کے بیان کے مطابق مصر، نیپال اور تاجکستان میں غربت کی شرح اور کثیرالجہتی
غربت کا شکار افراد کی تعداد، دونوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ دوسری جانب
انگولا اور زیمبیا میں غربت کی شرح میں کمی کے باوجود آبادی میں اضافے نے اس پیش
رفت کے اثرات کو زائل کر دیا، جس کے نتیجے میں غربت کا شکار افراد کی مجموعی تعداد
بڑھ گئی۔
غربت جانچنے کے
پیمانے
رپورٹ میں
استعمال ہونے والے غربت کے انڈیکس میں صرف آمدنی کو بنیاد نہیں بنایا گیا، بلکہ بنیادی
ضروریات اور سہولیات تک رسائی کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ ان پیمانوں میں مناسب
رہائش کی عدم دستیابی، صفائی ستھرائی کی سہولیات کا فقدان، بجلی اور کھانا پکانے
کے ایندھن کی عدم دستیابی، خوراک کی قلت اور تعلیم سے محرومی جیسے عوامل شامل ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق ان اشاریوں کی بنیاد پر غربت کا جائزہ لینے سے ان مشکلات کی
نشاندہی ہوتی ہے جن کا سامنا لوگوں کو بیک وقت زندگی کے مختلف شعبوں میں کرنا پڑتا
ہے۔ عالمی سطح پر غربت میں حالیہ اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ غربت کے
خاتمے کے لیے جاری کوششوں کے باوجود کروڑوں افراد اب بھی بنیادی سہولیات سے محروم
ہیں۔