پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا لانگ مارچ پانچویں روز میں داخل
ہو گیا ہے، قافلہ گزشتہ شب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے آبائی ضلع
خیبر پہنچا جہاں سے آج پشاور کیلئے روانگی ہو گی۔ مارچ ملتوی کرنے کے لیے
وفاقی حکومت کے پی ٹی آئی کے ساتھ 2 اور 3 اکتوبر کو مذاکرات کے 2 ادوار ہوئے تاہم
فریقین کے مابین معاہدے پر اتفاق رائے نہ ہو سکا، جس پر پی ٹی آئی نے عمران خان
کی رہائی سمیت متعدد دیگر مطالبات کے حق میں 4 اکتوبر کو لکی مروت سے لانگ مارچ شروع کیا تھا۔
لکی مروت سے قافلہ کرک، کوہاٹ اور پھر متنی سے
ہوتا ہوا خیبر پہنچا جہاں ڈی ٹور روڈ پر پڑاؤ ڈالا گیا۔ ابتدائی منصوبے کے مطابق
قافلے نے کوہاٹ سے براہ راست پشاور جانا تھا اور رات متنی کے قریب قیام کرنا تھا
تاہم پی ٹی آئی نے منگل کو مارچ کا روٹ تبدیل کر
دیا۔ نئے پلان کے مطابق لانگ مارچ آج رات تک پشاور چارسدہ روڈ کے کبوتر چوک پر
پہنچے گا جہاں سے چارسدہ ، پھر مردان، صوابی اور ملاکنڈ کی طرف روانہ ہو گا۔
لانگ مارچ کی متوقع آمد کے باعث پشاور میں نجی
اور سرکاری اسکولز جزوی طور بند ہونے کی اطلاعات ہیں۔ محکمہ تعلیم کے ذرائع کے
مطابق جن علاقوں سے لانگ مارچ گزرے گا وہاں سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اسکولز
بند کیے گئے ہیں جبکہ قافلے کے روٹ سے باہر تمام اسکولز معمول کے مطابق کھلے ہیں۔
اس سے قبل پشاور، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان
کے تعلیمی بورڈز نے لانگ مارچ کے باعث امتحانات ملتوی کرنے
کا اعلان کیا تھا۔ خیبر میں مارچ سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے اپنے آبائی
علاقے کے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ “بہت دیر ہونے سے پہلے اٹھ کھڑے ہوں، اس
موقع سے فائدہ اٹھائیں، باہر نکلیں۔۔۔اور انقلاب کا آغاز کریں۔” انہوں نے پُرامن
جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہم پُرامن لوگ ہیں جنہوں نے اسلام آباد
میں 126 دن تک دھرنا دیا اور خیبر سے کراچی تک اسٹریٹ موومنٹ کی لیکن کسی املاک کو
نقصان پہنچانا تو دور ایک گملہ تک نہیں توڑا۔
سہیل آفریدی نے حکومت پر پی ٹی آئی کے خلاف
کریک ڈاؤن کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ “ہمارے اوپر تشدد کیا گیا، جہاں قیام کیا
وہاں کی بجلی کاٹی گئی اور گاڑیاں توڑی گئیں۔۔۔لیکن جب تک سانس اور خون کا آخری
قطرہ باقی ہے، حقیقی آزادی کی جدوجہد جاری رہے گی۔” ضلع خیبر میں لانگ مارچ کا نظر
آنے والا یہ جمِ غفیر عوامی شرکت اور جوش و جذبے کی ایک خوبصورت جھلک پیش کر رہا
ہے۔
یاد
رہے کہ لانگ مارچ کے دوسرے دن وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو پیشکش کی تھی
کہ اگر پارٹی اپنا احتجاج ختم کر دے تو حکومت دوبارہ
مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے۔ تاہم اس ‘آفر’ کے جواب میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر
گوہر کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات سے انکاری نہیں
ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ مذاکرات ‘غیر مشروط’ ہوں۔