اقوام
متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے ڈبلیو ایم او نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی مظہر
ایل نینو دسمبر میں اپنی متوقع شدت کو پہنچنے سے قبل مزید مضبوط ہوگا اور یہ 1950
کے بعد رونما ہونے والے طاقتور ترین ایل نینو واقعات میں سے ایک ثابت ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی
جانب سے جاری ماہانہ گلوبل سیزنل کلائمیٹ اپ ڈیٹ کے مطابق ایل نینو کی شدت میں
مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کے بیشتر علاقوں میں معمول سے زیادہ
درجہ حرارت اور بارشوں کے معمول میں تبدیلی متوقع ہے۔ مختلف خطوں میں خشک سالی اور
سیلاب کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
ڈبلیو ایم او کے مطابق
ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے جس کے دوران وسطی اور مشرقی خطِ استوا
بحرالکاہل کے سطحی سمندری درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے، جس سے دنیا
بھر میں ہواؤں، فضائی دباؤ اور بارشوں کے نظام متاثر ہوتے ہیں۔ یہ مظہر عموماً ہر
2 سے 7 سال کے دوران رونما ہوتا ہے اور تقریباً 9 سے 12 ماہ تک جاری رہتا ہے۔
عالمی
موسمیاتی ادارے کے مطابق اکتوبر، نومبر اور دسمبر 2026 کے دوران وسطی اور مشرقی
بحرالکاہل کے گرم خطِ استوا میں سمندری سطح کا درجہ حرارت ریکارڈ سطح تک پہنچنے کا
امکان ہے، جس سے دنیا بھر کے موسم، معیشتوں، ماحولیاتی نظام اور آبادیوں پر اثرات
مرتب ہوں گے۔ یہ پیش گوئی 13 بڑے قومی اور بین الاقوامی موسمیاتی مراکز کے مشترکہ
جائزے پر مبنی ہے۔
ڈبلیو
ایم او کی سربراہ سیلیسٹ ساؤلو نے کہا کہ ایل نینو مضبوطی سے قائم ہوچکا ہے اور
تیزی سے شدت اختیار کررہا ہے۔ ان کے مطابق فروری 2027 تک ایل نینو کے برقرار رہنے
کا امکان تقریباً 100 فیصد ہے اور یہ 1950 کے بعد کے طاقتور ترین واقعات میں شامل
ہوسکتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ایل نینو زمین میں کوئی نئی حرارت شامل نہیں کرتا
بلکہ سمندر میں پہلے سے ذخیرہ شدہ حرارت کو فضا میں خارج کرنے کا باعث بنتا ہے۔ ان
کے بقول موجودہ صورتحال میں جس سمندر سے یہ حرارت خارج ہورہی ہے، وہ اب تک ریکارڈ
کیا جانے والا سب سے گرم سمندر ہے، اس لیے خارج ہونے والی حرارت کی مقدار بھی
زیادہ ہے۔
ڈبلیو
ایم او کے مطابق وسطی اور مشرقی خطِ استوا بحرالکاہل میں سمندری سطح کے درجہ حرارت
کا اشاریہ جون میں معمول سے 1.6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا، جو اگست میں بڑھ کر
2.5 ڈگری سینٹی گریڈ ہوگیا۔ اکتوبر، نومبر اور دسمبر کے دوران یہ فرق تقریباً 3.7
ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ اگر یہ پیشگوئی درست ثابت ہوتی
ہے تو یہ مشاہدات شروع ہونے کے بعد سمندری سطح کے درجہ حرارت کا بلند ترین ریکارڈ
ہوگا اور 16-2015 میں قائم 2.6 ڈگری سینٹی گریڈ کے سابقہ ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دے
گا۔ ایل نینو عموماً نومبر سے فروری کے درمیان اپنی بلند ترین شدت کو پہنچتا ہے،
تاہم اس کے نتیجے میں عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اکثر کچھ عرصے بعد سامنے آتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایل
نینو نے 2023 کو ریکارڈ پر دوسرا گرم ترین سال بنانے میں کردار ادا کیا، جبکہ 2024
اب تک کا گرم ترین سال رہا، جب عالمی اوسط درجہ حرارت 1900-1850 کے صنعتی دور سے
پہلے کے اوسط کے مقابلے میں تقریباً 1.55 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔ ایل
نینو کے اثرات پہلے ہی بعض خطوں میں نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں، وسطی امریکا میں
خشک سالی کے باعث جانوروں اور فصلوں کے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ آنے والے
مہینوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں خشک سالی، شدید بارشوں اور سیلاب کے خطرات میں
اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔