امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ٹیلی فونک گفتگو کے بعد روس سے لاکھوں ٹن ڈیزل عالمی
منڈی میں فراہم کرنے کے معاہدے کا اعلان کردیا، جس پر یوکرین کے صدر ولودیمیر
زیلنسکی نے سخت تنقید کرتے ہوئے اسے پیوٹن کے لیے تحفہ قرار دیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ روس فوری طور پر 3 لاکھ ٹن سے زائد ڈیزل فراہم کرے گا، جبکہ
نومبر میں مزید 5 لاکھ ٹن اور اس کے بعد 10 لاکھ ٹن ڈیزل فراہم کیا جائے گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ روس اپنی ریفائنریوں کی صورتِ حال کے مطابق مختصر مدت
میں مزید 30 لاکھ ٹن ڈیزل بھی فراہم کرسکتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اس اقدام کا مقصد امریکا اور عالمی منڈی میں ڈیزل کی
فراہمی بڑھانا اور ایندھن کی بلند قیمتوں کو کم کرنا ہے۔
یوکرین کے صدر ولودیمیر
زیلنسکی نے امریکی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس پر دباؤ کم کرنے
سے جنگ کے خاتمے میں مدد نہیں ملے گی۔ زیلنسکی
نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں کہا کہ پیوٹن کو تحفے دینے سے نہ امن قائم ہوگا اور
نہ ہی دنیا کو کوئی فائدہ پہنچے گا۔ ان کے مطابق روس ڈیزل کی فراہمی کے بدلے مزید
حملوں اور جارحانہ کارروائیوں کا راستہ اختیار کرسکتا ہے۔ یوکرینی صدر کا مؤقف ہے کہ روس کے خلاف پابندیوں میں نرمی کسی واضح
اور پائیدار کشیدگی میں کمی کے معاہدے سے منسلک ہونی چاہیے۔ یوکرین کو خدشہ ہے کہ
روس کی توانائی کی آمدنی میں اضافہ ماسکو کو جنگ جاری رکھنے کے لیے مزید مالی
وسائل فراہم کرسکتا ہے۔
ٹرمپ کے اعلان کے ساتھ ہی
امریکی محکمہ خزانہ نے روسی ڈیزل کو عالمی منڈی تک پہنچانے کی اجازت دینے کے لیے
عارضی لائسنس جاری کیا۔ اس اقدام سے روسی ڈیزل کی تجارت پر عائد بعض پابندیوں میں
نرمی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ یہ
فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ روس نے فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل پیمانے پر حملے
کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے متعدد اقتصادی اور توانائی سے متعلق
پابندیوں کا سامنا کیا ہے۔ ان پابندیوں کا ایک مقصد روس کی آمدنی محدود کرکے اس کی
جنگی صلاحیت پر دباؤ ڈالنا تھا۔ ٹرمپ
کا تازہ اعلان واشنگٹن کی روس سے متعلق سابقہ پالیسی کے حوالے سے ایک اہم تبدیلی
کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے عملی اثرات کا انحصار ڈیزل کی حقیقی ترسیل،
پابندیوں کی شرائط اور عالمی منڈی کی صورتِ حال پر ہوگا۔